کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہوئے اس ڈر والے ماحول میں زندگی کا ہر شعبہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ کہیں لوگ بھوک سے بلبلا رہے ہیں تو کہیں آکسیجن، بیڈ یا وینٹیلیٹرز کی قلت سے لوگ اضطراب میں مبتلا ہیں۔
حالانکہ کئی سماجی تنظیموں کی جانب سے غریب و ضرورتمند لوگوں میں کھانا تقسیم کیا جارہا ہے لیکن وبا سے پیدا ہوئی پریشانیوں میں ایک اہم اور سنگین معاملہ بچوں کی تعلیم کا ہے۔ خاص طور پر سماج کے ایک بڑا طبقہ کو اس وبائی حالات کے دوران تعلیم حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں اور اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ غربت کی وجہ سے کہیں باصلاحیت بچوں کی تعلیم منقطع نہ ہوجائے۔
پرائیویٹ اسکولوں میں آن لائن تعلیم کا نظم ہے لیکن سرکاری اسکولوں میں جہاں بڑی تعداد میں غریب بچے پڑھتے ہیں وہاں آن لائن تعلیم کا کوئی انفراسٹرکچر یا سہولت موجود ہی نہیں ہے۔
اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے فیلکن گروپ آف انسٹیٹیوشنز کے ڈائریکٹر عبد السبحان نے بتایا کہ ان کے ادارے کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی سے لیس آن لائن تعلیمی نظام "اپ مائی رینکس" کو 300 اردو و اقلیتی اسکولوں کو دیا جائے گا جس کے ذریعے کئی ٹیچرس لامحدود طلبا کے لیے بیک وقت کلاسز کا اہتمام کرسکیں گے۔
اس موقع پر عبد السبحان نے سرکاری اقلیتی اسکولوں کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ فیلکن ادارے سے رابطہ کریں اور "اپ مائی رینکس" کے آن لائن تعلیمی نظام کو حاصل کر کے بچوں کو عمدہ تعلیم سے آراستہ کریں۔