اعظم پٹیل گزشتہ کئی دنوں سے سیفی ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن انہیں افاقہ نہیں ہوا۔انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، لیکن وہ شفایاب نہ ہو سکے اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
ان کی رحلت سے پولیس محکمہ میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔
پولیس محکمہ میں ملازمت کے باوجود وہ صوم و صلوۃ کے پابند تھے بلکہ دوسروں کو بھی نماز کی دعوت و تلقین کر تے تھے۔
نرم مزاج ملنسار اور اپنے کام کے تئیں انتہائی سنجیدہ افسر اعظم پٹیل کے جسد خاکی کو سپرد خاک کرتے وقت بطو ر احتیاط ان کے صرف چند ہی رشتہ داروں نے ہی انہیں پرنم آنکھوں سے الوداع کہا ۔
ممبئی پولیس میں ان جیسے افسر شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں جو صوم و صلوۃ کی پابندی کے ساتھ سادگی پسند ہوں۔
یہ بھی پڑھیے:مراٹھواڑہ: 19 مریض کورونا سے فوت
ممبئی پولیس کے کئی افسران نے بھی اعظم پٹیل کی موت کو عظیم نقصان قرار دیا ہے انہوں نے اعظم پٹیل کو خراج عقیدت بھی پیش کیا ہے۔
دوارن ملازمت انھوں نے ، ممبئی سے متصلہ کلیان میں داعش کا مشتبہ رکن اریب مجید کے کیس میں اعظم پٹیل نے این آئی اے میں تفتیش کی ہے اس کے ساتھ ہی وہ آئی بی سمیت کئی اہم شعبہ جات سے بھی وابستہ رہے۔
اعظم پٹیل صحافی برادری میں بھی کافی مقبول تھے ۔