دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کا کہنا ہے کہ دہلی میں کورونا کی ویکسین کے لئے 81 مراکز قائم کئے گئے تھے ۔ تمام مراکز پر ٹیکہ کاری کی گئی اور یہ مہم مکمل طور پر کامیاب رہی ہے۔
واضح رہے کہ پہلے دن شعبہ صحت کے 53.32 کارکنان کو ہی ویکسین لگائی جاسکی۔ ٹیکہ لگوانے والوں کی کم تعدادا پر دہلی کے وزیر صحت نے کہا کہ پورے ملک میں ٹیکہ کاری تقریبا پچاس فیصد رہی ہے جب کہ دہلی میں یہ ترپن فیصد رہی۔
ستیندر جین نے کہا کہ دہلی اور ملک میں کم تعداد میں کورونا کی ٹیکہ کاری کی اہم وجہ یہ تھی کہ آخری وقت میں لو گ نہیں آئے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورنا کا ٹیکہ لگوانا مکمل طور لوگوں کی مرضی پر منحصر ہے۔ ٹیکہ کے لئے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ٹیکہ کاری کے لئے نامو ں کے اندراج کے بعد بھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انہیں کورونا کا ٹیکہ لگانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں کل چار ہزار تین سو سترہ لوگوں کو ویکسین دی گئی۔ ان میں سے 51 لوگوں میں اسکے منفی اثرات دیکھے گئے۔ جبکہ ایک شحض کی حالت تشویشناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک بائیس سال کے سکیورٹی گارڈ کو ویکسین لگانے کے بعد طبعیت خراب ہوگئی۔ اور وہ دیر رات تک آئی سی یو میں تھے۔ اس کے علاوہ تمام افراد کو تھوڑی دیر کی مانیٹرنگ کے بعد چھٹی دے دی گئی۔
کیا اس واقعہ کے بعد ویکسین پر سوالات نہیں اٹھتے، اس کے جواب میں ستیندر جین نے کہا کہ یہ عمل ماہرین کی ہدایات اور مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق چل رہا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ٹیکہ کاری کے لیے جو اجازت دی ہے وہ جانچ کے مراحل کے بعد ہی دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔