عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الكاظمی کے دورہ ترکی کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے عراق اور ترکی کے درمیان باہمی تعلقات پر زور دیا۔ وہیں الكاظمی نے کہا کہ ترکی اور عراق کے درمیان تجارتی و ثقافتی دور کا نیا آغاز ہوگا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ 'ترکی اور عراق نے دولت اسلامیہ گروپ اور کرد باغیوں سمیت شدت پسند تنظیموں کے خلاف جنگ میں اپنا تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے'۔
عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الكاظمی کا دورہ ترکی کے موقع پر ملاقات کے بعد اردگان نے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا ہے۔
اردگان کہا کہ انہیں امید ہے کہ عسکریت پسند گروپ کے خلاف تنازع کے دوران آئی ایس کے ذریعہ خراب ہونے والی عراقی ترک آئل پائپ لائن کی جلد مرمت کردی جائے گی اور تیل کی منتقلی دوبارہ شروع کردی جائے گی۔
- تعمیر نو اور ترقی:
وہیں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الكاظمی کے میڈیا آفس 'المكتب الاعلامی لرئيس الوزراء' نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ 'الكاظمی ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے اپنے سرکاری دورے کے موقع پر متعدد کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور ترک کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنانے، اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور بیوروکریٹک طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا'۔
'ترکی، عراق کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ہم انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور ترقی میں اس پر بھروسہ کرتے ہیں'۔
- دونوں ممالک کے مابین معاشی تعلقات:
اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ 'ہم دونوں ممالک کے مابین معاشی تعلقات اور معاشی شراکت داری کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں اور خاص طور پر ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جن کی عراق کو فی الحال ضرورت ہے'۔
'وزیر اعظم نے اس ملاقات کے دوران کہا کہ عراق ایک امید افزا ملک ہے اور اس نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کامیابی کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے اور وہ پائیدار ترقی کے حصول کی راہ میں ترکی کو معاشی میدان میں ایک حقیقی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے'۔
- عراق میں ترکی کی سرمایہ کاری:
'عراق سرمایہ کاری کے لئے اپنے دروازے کھولنے میں سنجیدہ ہے۔ عراق اپنے بازاروں میں ترکی کی سرمایہ کاری اور مہارت کو راغب کرنے والا ہے، تاکہ صنعت و زراعت میں عراقی معیشت کی بنیاد کو وسعت دی جاسکے اور خام تیل پر انحصار کم کیا جاسکے'۔
مشترکہ پرس کانفرنس میں اردگان نے کہا 'ہم نے اپنے مشترکہ دشمنوں کردستان ورکرز پارٹی )پی کے کے) اور گولین تحریک )ایف ای ٹی او( کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے'۔
واضح رہے کہ مؤخر الذکر ایک ایسا نیٹ ورک ہے جس کی سربراہی امریکہ میں مقیم ترکی کے دانشور فتح اللہ گولن کرتے ہیں۔ جس پر ترکی نے 2016 میں ناکام بغاوت کا الزام عائد کیا تھا۔
- علیحدگی پسندوں کے خلاف کارراوئی:
اردگان نے کہا 'ترکی، عراق یا شام میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے'۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عسکریت پسندی کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک ہمارے خطے میں قیام امن مشکل ہوگا'۔
اس کے بعد عراقی وزیراعظم مصطفی الكاظمی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'عراق کسی بھی ایسے اقدام کی مذمت کرتا ہے جس سے ترکی کو خطرہ لاحق ہو'۔
مزید پڑھیں: شیخ محمد بن زید اور عبد الفتاح السیسی کے درمیان ملاقات
ترک رہنما نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک نے ترکی کی طرف سے جنوب مشرقی ترکی میں الیسو ڈیم اور ایچ پی پی پروجیکٹ کی تعمیر کے بعد دریائے دجلہ کے پانی کے موثر استعمال ی سمت تیار کردہ ترک مجوزہ عملی منصوبے پر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔