ETV Bharat / city

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کے گھر پر چھاپہ

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین اور ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفرالاسلام خان کی رہائش گاہ پر آج صبح این آئی اے کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کی گئی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین  کے گھر پر چھاپہ
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کے گھر پر چھاپہ
author img

By

Published : Oct 29, 2020, 10:36 AM IST

Updated : Oct 29, 2020, 10:21 PM IST

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام کے گھر پر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کی اطلاع ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام کے ٹھکانوں پر تلاشی کارروائی جاری ہے جبکہ ظفر الاسلام کی مالی اعانت کے معاملے میں این آئی اے کے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی نے جمعرات کے روز ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں دہلی اور سرینگر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز تفتیشی ایجنسی نے مالی اعانت کے معاملے میں سرینگر میں 10 اور بنگلور میں ایک جگہ پر چھاپے مارے ہیں۔

اس معاملے میں ایجنسی کو شبہ ہے کہ کچھ این جی اوز بھارت میں کام کر رہے ہیں، جو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھارت اور بیرون ملک فنڈ جمع کررہے ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین  کے گھر پر چھاپہ
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کے گھر پر چھاپہ

ذرائع نے بتایا ہے کہ چھاپوں کے دوران ایجنسی نے متعدد مشکوک دستاویزات اور الیکٹرانک سامان کو قبضے میں لے لیا ہے۔

این آئی اے کے عہدیداروں نے بدھ کے روز سول سوسائٹی کے کنوینر خرم پرویز اور ان کے ساتھی پرویز احمد بخاری، پرویز احمد مٹّہ اور سواتی شیشادری کے جموں اور کشمیر کولیشن کے گھروں اور دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔

اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ظفر الاسلام خان کی جائیداد بھی شامل ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی نے ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں دہلی اور سرینگر میں جمعرات کے روز متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔

اس میں چھ غیر منافع بخش تنظیمیں اور نو دیگر مقامات شامل ہیں۔ اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ظفر الاسلام خان کی جائیداد بھی شامل ہے۔

این آئی اے نے جن چھ این جی اوز پر چھاپہ مارا ہے وہ ہیں فلاح عام ٹرسٹ، چیریٹی الائنس، ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن، جے کے یتیم فاؤنڈیشن، سالویشن موومنٹ اور جے اینڈ کے وائس آف وکٹم شامل ہیں۔

ان میں سے چیریٹی الائنس اور ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن دہلی میں مقیم ہیں، جبکہ باقی کا کام جموں و کشمیر کے سری نگر سے ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام کے گھر پر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کی اطلاع ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام کے ٹھکانوں پر تلاشی کارروائی جاری ہے جبکہ ظفر الاسلام کی مالی اعانت کے معاملے میں این آئی اے کے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی نے جمعرات کے روز ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں دہلی اور سرینگر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز تفتیشی ایجنسی نے مالی اعانت کے معاملے میں سرینگر میں 10 اور بنگلور میں ایک جگہ پر چھاپے مارے ہیں۔

اس معاملے میں ایجنسی کو شبہ ہے کہ کچھ این جی اوز بھارت میں کام کر رہے ہیں، جو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھارت اور بیرون ملک فنڈ جمع کررہے ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین  کے گھر پر چھاپہ
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کے گھر پر چھاپہ

ذرائع نے بتایا ہے کہ چھاپوں کے دوران ایجنسی نے متعدد مشکوک دستاویزات اور الیکٹرانک سامان کو قبضے میں لے لیا ہے۔

این آئی اے کے عہدیداروں نے بدھ کے روز سول سوسائٹی کے کنوینر خرم پرویز اور ان کے ساتھی پرویز احمد بخاری، پرویز احمد مٹّہ اور سواتی شیشادری کے جموں اور کشمیر کولیشن کے گھروں اور دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔

اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ظفر الاسلام خان کی جائیداد بھی شامل ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی نے ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں دہلی اور سرینگر میں جمعرات کے روز متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔

اس میں چھ غیر منافع بخش تنظیمیں اور نو دیگر مقامات شامل ہیں۔ اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ ظفر الاسلام خان کی جائیداد بھی شامل ہے۔

این آئی اے نے جن چھ این جی اوز پر چھاپہ مارا ہے وہ ہیں فلاح عام ٹرسٹ، چیریٹی الائنس، ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن، جے کے یتیم فاؤنڈیشن، سالویشن موومنٹ اور جے اینڈ کے وائس آف وکٹم شامل ہیں۔

ان میں سے چیریٹی الائنس اور ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن دہلی میں مقیم ہیں، جبکہ باقی کا کام جموں و کشمیر کے سری نگر سے ہے۔

Last Updated : Oct 29, 2020, 10:21 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.