پاپولرفرنٹ آف انڈیا Popular Front of India کے چیئرمین او ایم اے سلام نے آدھار کارڈ کو ووٹر آئی ڈی سے لنک کرنے کے فیصلے پر سخت اعتراض جتایا ہے۔
حال میں پاس کردہ انتخابی قانون ترمیمی بل میں آدھار کارڈ کو ووٹر آئی ڈی سے لنک Linking Aadhar With Voter ID کرنے کی تجویز کئی طرح کے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔
یہ اصلاح سپریم کورٹ کے 2015 کے فیصلے کے خلاف ہے جس میں کورٹ نے عوامی نظام تقسیم کے علاوہ دوسرے کسی مقصد کے لئے آدھار کے استعمال پر روک لگائی تھی۔ ساتھ ہی اس اصلاح سے تمام شہریوں کے لئے آدھار لازمی ہو جائے گا۔ وہیں یہ فیصلہ شہریوں کی رازداری کے بنیادی حق کو بھی چیلنج کرتا ہے۔
اس سے بڑھ کر سنگین بات یہ ہے کہ اس بات کے خدشات ہیں کہ برسرِاقتدار لوگ ووٹر لسٹ میں ہیر پھیر کے لئے ڈیٹا کا غلط استعمال کریں گے اور ان لوگوں کو باہر کردیں گے جن سے انہیں اپنے خلاف ووٹنگ کا ڈر ہوگا۔
گذشتہ مردم شماری کے مطابق بھارت کی شرح خواندگی محض 74 فیصد ہے اور نام نہاد ڈجیٹل انڈیا ابھی بھی بھارت کی بیشتر عوام کی پہنچ سے دور ہے۔
مزید پڑھیں:Voter Enrolment Drive: ووٹر لسٹ میں نام کی شمولیت کے لیے آگاہی مہم
انتخابی عمل کو ڈجیٹل بنانے کے بہانے سے آدھار کو ووٹر آئی ڈی سے لنک کرنے کا یہ فیصلہ ملک کے حاشیے پر کھڑے عوام کے بڑے طبقے کو جمہوری عمل سے دور کر دے گا۔ پاپولر فرنٹ مرکز سے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔