نیرج کو دہلی پولیس نے مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر ایپ بنانے Bulli Bai App case کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پنکج شرما نے ضمانت کی درخواست مسترد Delhi Court Denies Bail To Niraj Bishnoi کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے ایک مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف ہتک عزت کی مہم شروع کی تھی جس میں توہین آمیز اور قابل اعتراض مواد شامل ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم نے ایک ایپ بنائی تھی جہاں نامور خواتین صحافیوں اور ایک مخصوص کمیونٹی کی مشہور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر ان کی توہین کے مقصد سے انہیں غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔
بشنوئی جسے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے آئی ایف ایس او (انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ) نے گزشتہ ہفتے گرفتار کیا تھا، جسے سات دن کی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔
نیرج ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بھوپال کے بی ٹیک (کمپیوٹر سائنس) کے دوسرے سال کا طالب علم ہے۔
پولیس کے مطابق بشنوئی نے اکتوبر میں ان خواتین کی فہرست بنائی جنہیں وہ آن لائن بدنام کرنا چاہتا تھا۔
وہ سوشل میڈیا پر خواتین کارکنوں کو ٹریس کرتا تھا اور ان کی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرتا تھا۔
یکم جنوری کو 'گٹ ہب' ایپ میں ایک مخصوص کمیونٹی کی متعدد خواتین کی تصاویر پوسٹ کیں۔ ان میں صحافی، سماجی کارکن، طلباء اور مشہور شخصیات شامل تھیں۔
یہ پیشرفت 'سلی ڈیلز پر تنازع کے چھ ماہ بعد سامنے آئی تھی۔
وشال کمار جھا انجینئرنگ کا طالب علم، بلی بائی کے ملزمین میں سے ایک ہے، جس نے کلیدی ملزم تک پہنچنے میں پولیس کی مدد کی۔
سلی ڈیل ایپ بھی ہوسٹنگ پلیٹ فارم GitHub پر بنائی گئی تھی اور Bulli Buy ایپ بھی اس پر بنائی گئی تھی۔
تنازع شروع ہونے کے بعد GitHub نے صارف بلی بائی کو اپنے ہوسٹنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔
لیکن تب تک اس نے ملک گیر تنازع کو جنم دیا تھا۔ اس ایپ کو بلی بائی نام کے ٹویٹر ہینڈل کے ذریعہ بھی ایک خالصتانی حامی کی تصویر کے ساتھ پروموٹ کیا جارہا تھا۔'
مزید پڑھیں:
- Sulli Deals and Hate Speech: اقوام متحدہ کے نمائندہ سلی ڈیلز اور اشتعال انگیز تقاریر پربرہم
- Sulli Deals App Case Accused: سُلی ڈیل ایپ کیس، ملزم نے کئی چونکانے والے انکشاف کئے
- Bulli Bai App Conspiracy: 'بلی بائی ایپ کیس میں گرفتاریوں کے پیچھے سازش کی بو آرہی ہے'
- Dharm Sansad hate speech: اشتعال انگیز تقریر معاملہ میں اتراکھنڈ اور دہلی حکومت کو نوٹس