تہران نے بھارت کی مدد کے بغیر اب خود ہی چابہار زاہدان ریلوے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کے فیصلے پر سینئر صحافی سمیتا شرما نے دی ہندو کی ایڈییٹر برائے امور خارجہ سوہاسنی حیدر اور سابق سفارتکار کے سی سنگھ سے بات چیت کی۔
اس معاملے میں سوہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ چابہار بھارت کے لیے جغرافیائی حکمت عملی نظریے سے کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آخرکار بھارت کو اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے مسائل سے چھٹکارا ملتا، جس نے بھارت اور افغانستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے مابین ہونے والے تجارت میں مستقل طور پر روکاوٹین پیدا کی ہیں۔ چابہار ایک ایسا راستہ تھا جس سے بھارت پاکستان جیسے مسئلے سے دور جاسکتا تھا اور افغانستان میں نئے تجارتی تعلقات قائم کرسکتا تھا۔ ساتھ میں یہی چابہار لائن پروجیکٹ بھارت کو ترکمینستان، وسطی ایشیاء اور روس جیسے ملک سے تعلقات قائم کرنے میں مدد کرتی تھی۔ اگر امریکی پابندیوں کی وجہ سے نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ راہداری میں مشکلات پیدا ہوتی تو ان حالات میں بھارت کے لیے چابہار دوسرا راستہ بن کر سامنے آتا۔
وہیں اس انٹرویو کے دوران سابق سفارتکار کے سی سنگھ نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر خمینی اور وزیر خارجہ جاوید ظریف نے آرٹیکل 377 کی منسوخی، سی اے اے، دہلی فسادات اور بھارت میں مسلم اقلیتوں کے حوالے سے بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی گھریلو سیاست میں مصروفیت اور واسنگٹن ڈی سی سے بڑھتی ہوئی قربتوں نے نئی دہلی کے بارے میں تہران کے خیال کو تبدیل کردیا ہے۔