سرینگر: جموں کشمیر کے معروف مصنف و صحافی غلام نبی خیال کے یاد میں جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی نے ایک تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں مرحوم خیال کو خراج پیش کیا گیا۔تقریب میں کشمیر کے درجنوں قلم کار، مصنف و ادب سے منسلک افراد نے غلام نبی خیال کے ادبی و صحافی زندگی پر روشنی ڈالی اور ان کے کارناموں کو یاد کیا۔
واضح رہے غلام نبی خیال اتوار کی علی الصبح انتقال کر گئے۔ وہ سرینگر کے حول علاقے کے رہنے والے تھے لیکن گزشتہ برسوں سے اپنے اولاد کے ساتھ سرینگر کے مضافات راول پورہ میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ خیال 83 برس کے تھے۔
کشمیر کے سابق ایم ایل سی و اپنی پارٹی کے نائب صدر ظفر منہاس نے خیال کے متعلق کہا کہ وہ اپنے وقت کے معروف قلم کار اور دانشور تھے۔ انہوں نے کہا کہ خیال نے عمر خیام کی رباعیات کو کشمیری زبان میں ترجمہ کرکے کشمیری زبان کے لئے بڑا کارنامہ پیش کیا۔
وہیں جموں وکشمیر کلچرل اکیڈیمی کے سابق سکریٹری رفیق مسعودی نے کہا کہ غلام نبی خیال کی تنصیب کو ڈیجیٹائر کرنے کے لئے ان کے دوست و احباب کو پہل کرنی چاہئے، تاکہ خیال کے تصنیف زندہ رہے۔
کلچرل اکیڈیمی کے کلچرل افسر سلیم سالک نے بتایا کہ اکیڈمی خیال صاحب کے تصنیف اور ان کی ادبی لٹریچر کو پبلش کرکے نئی پود کو ان کی ادبی خدمات سے آشنا کرے گی۔
مزید پڑھیں:Ghulam Nabi Khyal Passes Away وادی کشمیر کے معروف شاعر و مصنف غلام نبی خیال کا انتقال
بتادیں کہ غلام نبی خیال کو ان کی مقبول تصنیف 'گشک مینار' کے لیے سنہ 1975 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا تھا۔ ان کے دوستوں و اقابر کے مطابق خیال نے کشمیری، اردو اور انگریزی میں تیس سے زائد کتابیں لکھی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی ہے۔ سنہ 2015 میں خیال اس وقت سرخیوں میں رہے جب انہوں نے بھارت کی معروف کنڑ مصنف ایم ایم کلبرگی کے قتل پر احتجاج ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کیا تھا۔