اردو

urdu

ETV Bharat / state

اندور میں 36 بچوں نے ایک ساتھ پہلا روزہ رکھا - Ramadan 2024 - RAMADAN 2024

First Fasting of 36 children in Indore: اندور شہر کی شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے 36 بچوں نے ایک ساتھ پہلا روزہ رکھا۔ اس موقعے پر برادری کی جانب سے بچوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزہ کشائی کا اہتمام کیا گیا۔

36 children from the same community observed their first fast In Indore
36 children from the same community observed their first fast In Indore

By ETV Bharat Urdu Team

Published : Apr 6, 2024, 4:57 PM IST

اندور میں ایک ہی برادری کے 36 بچوں نے پہلا روزہ رکھا

اندور:ریاست مدھیہ پردیش کے صنعتی شہر اندور کی شیخ برادری میں ایک ساتھ 36 بچوں نے پہلا روزہ رکھا۔ برادری نے بچوں کے لیے عالی شان روزہ کشائی کا اہتمام بھی کیا۔ سوکھے ہونٹ، سروں پر ٹوپیِ گلے میں پھولوں کا ہار اور سلیقے سے دوپٹہ پہنے ان 36 کمسن بچوں نے شدید درجۂ حرارت کے باوجود اپنے حوصلہ اور عزم کے بل پر پہلا روزہ رکھا اور کامیابی حاصل کی۔ یہ کارنامہ کر دکھایا ہے مدھیہ پردیش کے صنعتی شہر اندور کی شیخ برادری کے بچوں نے۔ برادری کے ایک فرد نوشاد پاکیزہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک ساتھ 36 بچوں نے اپنا پہلا روزہ رکھا ہے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے برادری نے عالی شان تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں برادری کے علاوہ دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی اور بچوں کو انعام اور اکرام سے نوازا گیا۔ وہیں شاعر ضیا رانا نے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

ایک ایسی افطار پارٹی جس میں لوگ اپنے اپنے گھر سے لائے افطار - unique iftar party in indore

برادری سے تعلق رکھنے والے نوشاد پاکیزہ نے بتایا کہ یہ ملک میں پہلا موقع ہے جہاں ایک ساتھ 36 بچوں نے اپنا پہلا روزہ رکھا ہے۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے کے پہلے روزہ کی تقریب بڑے پیمانے پر منعقد ہو۔ لہٰذا ہم نے برادری کے تمام بچوں کے لیے عالی شان تقریب کا انعقاد کیا ہے۔ وہیں برادری کے ایک دوسرے شخص یوسف کا کہنا ہے کہ ہم نے بچوں کو جو تحفے اور تحائف دیے ہیں وہ بھی تعلیم سے متعلق ہی دیے ہیں۔ تاکہ ان کا استعمال وہ علم حاصل کرنے میں کر سکیں۔ وہیں ہم نے اس تقریب کو تعلیم سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو مضبوط کرنے کے لیے اجتماعیت کی سخت ضرورت ہے۔ اگر معاشرے کے بچے اپنے سخت حوصلہ اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو پھر معاشرے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ کیونکہ یہی دیش کا مستقبل ہیں۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details