سرینگر:کشمیر میں 40 دنوں پر محیط سردیوں کا بادشاہ ’’چلہ کلان‘‘ پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری اور میدانی علاقوں میں مجموعی طور خشک موسم کے بیچ ایک سال کے لیے رخصت ہو گیا۔ اب وادی کشمیر کے لوگوں کو یکم مارچ تک ’’چلہ خورد‘‘ اور ’’چلہ بچہ‘‘ (کی سردیوں) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بار چلہ کلان زیادہ پریشان کن نہیں رہا۔ 40 دنوں کے دوران پہاڑی اور سیاحتی مقامات پر برف باری کے نشان چھوڑ کر ہی چلہ کلان رخصت ہوا۔ تاہم میدانی علاقے برفباری سے اس دورانیہ میں محروم ہی رہے۔ دو ماہ کے طویل خشک موسم کے بیچ اتوار کی سہ پہر سے بالائی علاقے ہلکی برفباری اور میدانی علاقے بارش سے تر ہو گئے۔
وادی کشمیر میں ’’چلہ کلان‘‘ کے دوران نہ صرف مقامی باشندے بلکہ یہاں موجود سیاح بھی برف باری کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ایسے میں سیاحتی مقام خاص کر گلمرگ میں تازہ برفباری سے سیاحوں کو لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا جس کے لیے وہ عرصہ دراز سے منتظر تھے۔ ’’چلہ کلان‘‘ کے دوران کشمیر میں اگرچہ موسم مجموعی طور خشک رہنے کے ساتھ ساتھ دن کے دوران ہلکی دھوپ بھی چھائی رہی، تاہم دوران شب ٹھٹھرتی سردی کا راج برابر جاری رہا اور گرمائی دارالحکومت سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری درج کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس سے قبل بھی ’’چلہ کلان‘‘ خشک رہا ہے اور رواں سیزن کے دوران یہ دورانیہ (چلہ کلان) خشک رہنے کے نتیجے میں یہاں کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں کافی کمی واقع ہوئی ہے جس سے لوگوں خاص کر کسان طبقے میں گونا گوں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ اس دوران برف و باراں کی خاطر وادی کشمیر کے لوگوں نے ’’نماز استسقاء‘‘ کا بھی اہتمام کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور سربسجود ہوکر لوگوں نے اپنی خطاؤں اور گناہوں کی معافی بھی طلب کی۔