دیر البلاح، غزہ کی پٹی:فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے مرکزی الشفاء اسپتال سے دو ہفتوں کے چھاپوں کے بعد پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے الشفاء اسپتال میں حولناک تباہی مچائی ہے
پیر کی صبح اسرائیلی فوج کے پیچھے ہٹنے کے بعد سینکڑوں لوگ الشفا اسپتال اور آس پاس کے علاقے میں واپس آئے، جہاں انہیں اسپتال کے اندر اور باہر کئی لاشیں ملیں۔
اسرائیلی فوج نے الشفاء میں چھاپے کو تقریباً چھ ماہ کی جنگ کی کامیاب ترین کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسپتال میں حماس کے سینئر کارکنوں سمیت عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ صیہونی فوج نے اسپتال سے ہتھیار اور قیمتی انٹیلی جنس قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ الشفاء اسپتال سے پیچھے ہٹنے اور تباہ کاریوں پر فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
الشفاء اسپتال سے محمد مہدی نے مکمل تباہی کا منظر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی عمارتوں کو جلا دیا گیا ہے۔ محمد مہدی نے علاقے میں چھ لاشیں گنیں، جن میں سے دو اسپتال کے صحن میں ہیں۔
ایک اور رہائشی، یحییٰ ابو عوف نے کہا کہ ابھی بھی مریض، طبی کارکن اور بے گھر لوگ میڈیکل کمپاؤنڈ کے اندر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مریضوں کو قریبی اہلی اسپتال لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے اسپتال کے احاطے کے اندر ایک عارضی قبرستان پر بلڈوز چلا دیا۔ یحییٰ ابو عوف نے کہا کہ صورتحال ناقابل بیان ہے۔ قبضے نے یہاں زندگی کے تمام احساس کو تباہ کر دیا۔
حماس کے زیر انتظام میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ، الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 200 سے زیادہ فلسطینی ہلاک جب کہ تقریباً ایک ہزار دیگر کو گرفتار کیا گیا ہے۔