نئی دہلی: ملک کی سات ریاستوں کی 13 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے آج ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اب تک 11 نشستوں کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ ان میں کانگریس نے 4، ٹی ایم سی نے 4، بی جے پی نے 2، عآپ-آزاد نے 1-1 سیٹ جیتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے گنتی مراکز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار موہندر بھگت نے پنجاب کی جالندھر مغربی قانون ساز اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہیں ہماچل پردیش میں سی ایم کی اہلیہ کملیش ٹھاکر نے جیت حاصل کی۔
ہمیر پور اسمبلی حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے آشیش شرما اور نالہ گڑھ اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار ہردیپ سنگھ باوا نے کامیابی حاصل کی۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے امیدوار کرشنا کلیانی نے رائے گنج سیٹ سے اور مدھوپرنا ٹھاکر نے بگڈا سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح راناگھاٹ ساؤتھ سیٹ سے ٹی ایم سی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ آپ کو بتا دیں کہ 10 جولائی کو سات ریاستوں کی 13 اسمبلی سیٹوں پر پرامن ضمنی انتخابات ہوئے تھے۔ پنجاب کی ایک، اتراکھنڈ کی دو، ہماچل پردیش کی تین، مغربی بنگال کی چار اور بہار، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو کی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخابات ہوئے۔
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی نے چاروں سیٹیوں پر جیت درج کی:
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے چاروں سیٹوں پر فتح کا پرچم لہرایا ہے۔ ٹی ایم سی کے امیدوار کرشنا کلیانی نے رائے گنج سیٹ سے اور مدھوپرنا ٹھاکر نے بگڈا سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔ ٹی ایم سی نے دیگر سیٹوں راناگھاٹ ساؤتھ اور مانیکتلا بھی اپنے نام کر لی ہیں۔ اسمبلی ضمنی انتخابات میں ٹی ایم سی کی 4 سیٹیں جیتنے پر ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش نے کہا، 'یہ ہونا ہی تھا۔ لوک سبھا میں بی جے پی کو ووٹ دینے والے کچھ لوگوں کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ اپنا ووٹ ضائع نہیں کریں گے۔ کھیل شروع ہو چکا ہے۔ دہلی میں مودی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔ انڈیا اتحاد حکومت بنائے گا اور اس میں ٹی ایم سی کا رول بہت اہم ہوگا۔
ہماچل کے نالہ گڑھ میں کانگریس نے تین میں دو سٹیں جیت لیں: