مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے کرشنا نگر سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا مویترا اپنے ایک بیان کی وجہ سے ان دنوں سرخیوں میں ہیں.
رکن پارلیمان مہوا مویترا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں مانتی ہوں کہ غصے میں کچھ غلط نکل گیا ہوگا. اس کی وضاحت کرنا ضروری بھی ہے۔
لیکن اس پر جس طرح سے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی وہ غلط ہے۔ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے کیونکہ جائے وقوع پر موجود نہیں رہتے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ لطف اندوز ہوکر بیان بازی کرنے لگتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے۔ اگر وہ اپنی اس حرکت پر صحیح ہیں تو میں اپنے بیان پر اٹل ہوں ۔
رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ کولکاتا پریس کلب کی جانب سے میرے خلاف بیان آنا حیران کن ہے، کولکاتا پریس کلب ایک ادارہ ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کولکاتا پریس کلب کو کسی کے بیان پر ردعمل یا مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے. پریس کلب گودی میڈیا کی من مانی اور منگھڑت خبروں پر خاموش رہتا ہے۔ گودی میڈیا کے سامنے زبان تک نہیں کھلتی ہے۔ یہ لوگ کسی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرنے والے کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ کولکاتا پریس کلب کو پتہ نہیں ہے کہ گودی میڈیا میں کیا چل رہا ہے؟ جو میڈیا بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی خبریں کرتی ہیں انہیں کس طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ اس وقت کولکاتا پریس کلب کا کردار کیا ہوتا ہے؟ بولنا ہے تو سب کے بارے میں بولئیے ورنہ خاموش رہئیے۔ میں نے جو کچھ بھی کہا اس کی وضاحت کرچکی ہوں لیکن اب میں اپنے بیان پر اٹل ہوں۔
واضح رہے کہ کرشنا نگر کے غیاث پور میں پارٹی میٹنگ کے دوران ایک صحافی آ پہنچا تھا۔ مہوا مویترا نے صحافی سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں ایک صحافی ہوں، جس پر رکن پارلیمان نے کہا کہ ترنمول کانگریس پارٹی کی میٹنگ میں کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ صحافی نے کہا کہ اس میں غلط کیا ہے. اسی پر رکن پارلیمان مہوا مویترا نے 'دو پیسے کا پریس' سے متعلق متنازع بیان دے دیا۔ جس پر ہنگامہ جاری ہے۔
دو پیسے کے پریس والے بیان پر مہوا مویترا کی وضاحت - مہوا مویترا نے 'دو پیسے کا پریس
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا مویترا نے 'دو پیسے کا پریس' والے بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ غصے میں کچھ غلط نکل گیا ہوگا لیکن میں اب بھی اس پر قائم ہوں۔
مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے کرشنا نگر سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا مویترا اپنے ایک بیان کی وجہ سے ان دنوں سرخیوں میں ہیں.
رکن پارلیمان مہوا مویترا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں مانتی ہوں کہ غصے میں کچھ غلط نکل گیا ہوگا. اس کی وضاحت کرنا ضروری بھی ہے۔
لیکن اس پر جس طرح سے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی وہ غلط ہے۔ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے کیونکہ جائے وقوع پر موجود نہیں رہتے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ لطف اندوز ہوکر بیان بازی کرنے لگتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے۔ اگر وہ اپنی اس حرکت پر صحیح ہیں تو میں اپنے بیان پر اٹل ہوں ۔
رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ کولکاتا پریس کلب کی جانب سے میرے خلاف بیان آنا حیران کن ہے، کولکاتا پریس کلب ایک ادارہ ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کولکاتا پریس کلب کو کسی کے بیان پر ردعمل یا مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے. پریس کلب گودی میڈیا کی من مانی اور منگھڑت خبروں پر خاموش رہتا ہے۔ گودی میڈیا کے سامنے زبان تک نہیں کھلتی ہے۔ یہ لوگ کسی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرنے والے کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ کولکاتا پریس کلب کو پتہ نہیں ہے کہ گودی میڈیا میں کیا چل رہا ہے؟ جو میڈیا بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی خبریں کرتی ہیں انہیں کس طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ اس وقت کولکاتا پریس کلب کا کردار کیا ہوتا ہے؟ بولنا ہے تو سب کے بارے میں بولئیے ورنہ خاموش رہئیے۔ میں نے جو کچھ بھی کہا اس کی وضاحت کرچکی ہوں لیکن اب میں اپنے بیان پر اٹل ہوں۔
واضح رہے کہ کرشنا نگر کے غیاث پور میں پارٹی میٹنگ کے دوران ایک صحافی آ پہنچا تھا۔ مہوا مویترا نے صحافی سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں ایک صحافی ہوں، جس پر رکن پارلیمان نے کہا کہ ترنمول کانگریس پارٹی کی میٹنگ میں کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ صحافی نے کہا کہ اس میں غلط کیا ہے. اسی پر رکن پارلیمان مہوا مویترا نے 'دو پیسے کا پریس' سے متعلق متنازع بیان دے دیا۔ جس پر ہنگامہ جاری ہے۔