ایس ایس پی کی رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ کے بالا جی نے این ایس اے لگائے جانے کی ایف آئی آر پر مہر لگا دی ہے۔ دراصل 16 فروری کو شادی کی تقریب میں روٹیوں پر تھوکنے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد ہندو تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔
بتا دیں کہ 16 فروری کی رات شادی کی تقریب میرٹھ کے گڑھ روڈ پر واقع آروما گارڈن میں منعقد ہوئی تھی۔ تقریب میں تمام ڈشز کے ساتھ تندوری روٹی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، بتایا جاتا ہے کہ نوشاد تندوری روٹیوں پر تھوک رہا تھا۔
اس دوران تقریب میں شامل ایک شخص نے اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ وہیں روٹی پر تھوکنے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد ہندو تنظیموں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔
ہندو جاگرن منچ کے صدر سچن سیروہی نے ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نوشاد کی تلاش شروع کر دی۔ دو دن بعد نوشاد ہندو جاگرن منچ کے کارکنان کے ہتھے چڑھ گئے۔ ہندو جاگرن منچ کے کارکنان نے نوشاد کی پٹائی کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے نوشاد کے خلاف مقدمہ درج کر اسے جیل بھیج دیا۔
وہیں اس معاملے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے بالاجی نے بتایا کہ پولیس انتظامیہ کی تجویز کی بنیاد پر ملزم نوشاد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم رضوی کے خلاف ملک گیر پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری
انہوں نے کہا کہ ملزم نوجوان نے روٹیوں پر تھوک کر ضلع کے عوامی نظم کو متاثر کیا ہے۔ لہذا ملزم کے خلاف راسوکا کی کارروائی کی گئی۔