مراد آباد:سپریم کورٹ نے متھرا کی شاہی عید گاہ سے متعلق ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے، جس میں مسجد کے سروے کے لیے کمشنر کی تقرری کی بات کہی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد شاہی عیدگاہ مسجد کے سروے پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ متھرا کی شاہی عید گاہ کا سروے کیا جائے گا، جس کے لیے کمشنر کی تقرری کی جائے۔
اس فیصلے کے بعد متھرا کی شاہی عیدگاہ کے انتظامیہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جہاں پر مسلم سائڈ کے لوگوں کو سپریم کورٹ نے راحت دی ہے۔ یقینا اس فیصلے سے مسلمانوں میں خوشی کا ماحول ہے اور وہ عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔حالانکہ اس معاملے میں اگلی سماعت 22 جنوری کی طے کی گئی ہے۔
مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سید طفیل حسن نے اس معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے عدالت عظمی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ سروے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سروے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ بابری مسجد پر بھی اے ایس آئی نے سروے کیا تھا۔ مگر وہاں کیا ہوا سب جانتے ہیں وہاں فیصلہ ہوا انصاف نہیں ہوا۔ حالانکہ سبھی نے اس فیصلے کو منظور کیا اور اس وہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے مگر اس طرح کے سروے کا اب کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گیان واپی مسجد تنازعہ: سپریم کورٹ نے سیل کیے گئے وضو خانے کو صاف کرنے کی اجازت دی
ڈاکٹر حسن نے کہا کہ کچھ فرقہ وارانہ طاقتیں ملک کو کمزور کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ مندر مسجد کی اڑ لے کر آپس میں ہندو مسلمانوں کو لڑایا جا رہا ہے انہوں نے کہا اب یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے۔