کلیدی ملزم وکاس دوبے کو گرفتار نہ کرنے پانے اور اس کے مدھیہ پردیش کے اجین پہنچنے کے بعد آج وہاں سے گرفتار ہونے پر جہاں اترپردیش پولیس پشیماں ہے، تو وہیں ریاست کی اپوزیشن پارٹیز نے وکاس دوبے کی گرفتاری کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ 'کانپور کے بہیمانہ قتل میں اترپردیش حکومت کو جس مستعدی سے کام کرنا چاہیے تھا وہ پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی'۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'الرٹ کے باوجود ملزم کا اجین تک پہنچنا نہ صرف سکیورٹی کے دعووں کی پول کھولتا ہے بلکہ ملی بھگت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔
کانپور میں ہلاک سرکل افسر دویندر مشرا کی جانب سے اس وقت کے ایس ایس پی انند دیو کو لکھے گئے خط کے سلسلے میں انہوں نے کہا 'تین مہینے پرانے خط پر، نو ایکشن' اور شاطر مجرمین کی فہرست میں 'وکاس' کا نام نہ ہونا بتاتا ہے کہ اس معاملے کے تار دور تک جڑے ہیں۔
اترپردیش حکومت کو اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کرا نے کے بعد سبھی حقائق اور پروٹکشن کے تعلقات کو جگ ظاہر کرنا چاہیے۔
وہیں سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ 'خبر آرہی ہے کہ کانپور سانحہ کا کلیدی ملزم پولیس کی حراست میں ہے، اگر یہ سچ ہے توحکومت صاف کرے کہ یہ خودسپردگی ہے یہ گرفتاری، اور ساتھ ہی اس کے موبائل کی سی ڈی آر عام کیا جائے جس سے سچی ملی بھگت کا پردہ فاش ہوسکے۔
کانگریس کے سینیئر رہنما و سابق وفاقی وزیر جتن پرساد نے امر دوبے کی بیوی خوشی کی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا 'دوبے گینگ کے بے سہارا ماں، باپ اور نو دن قبل ازدواجی زندگی میں منسلک ہوئی خوشی جو اب بیوہ ہیں ان کو ہراساں کرنے سے کیا ہونے والا ہے، اس لیے وکاس دوبے کو گرفتار کرکے سسٹم میں اوپر سے نیچے تک اس کے تعلقات کی جانچ ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ امر دوبے جسے پولیس نے انکاونٹر میں مار دیا اس نے 29 جون کو ہی خوشی سے شادی کی تھی، بدھ کو پولیس نے امر دوبے کو انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا۔
انہوں نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا کہ 'پولیس حراست میں ہونے کے باوجود پربھاکر مشرا کا تصادم دکھا کر انکاؤنٹر کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ حکومت اصل کہانی کو چھپانے میں لگی ہے، تاکہ بڑے چہرے بے نقاب نہ ہوجائیں۔
واضح رہے کہ وکاس دوبے کی گرفتاری سے پہلے تک اترپردیش پولیس اس کے پانچ ساتھیوں کو انکاؤنٹر میں جان سے مار چکی ہے۔