دیویش نے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں گذشتہ سات ستمبر کو منعقد ورلڈ باڈی بلڈنگ مقابلے میں تیسرا نمبر حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
دیویش ٹنڈن کے والد اتل سروپ ٹنڈن میرٹھ کے سردھنہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں مینیجر ہے، جب کی والدہ سنگیتا ٹنڈن ممبئی سے آرٹ کورس کیے ہوئے ہیں۔ دو بہن بھائی ہیں۔
دیویش ٹنڈن ایک فٹنس ماہر بھی ہیں اور آن لائن ورزش کی ٹریننگ بھی کراتے ہیں۔ وہ فی الحال ممبئی میں مقیم ہیں، جبکہ انہوں نے میرٹھ کے نوچندی گراؤنڈ کے سامنے الٹیمیٹم فٹنس سینٹر سے اپنی پوری تیاری کی ہے۔
دیویش جنوبی افریقہ سے واپسی کے بعد میرٹھ میں اپنے کوچ پرویز سے ملاقات کرنے پہنچے جہاں ان کے ساتھیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور کوچ پرویز نے گلپوشی بھی کی۔
دیویش کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کے بعد ان کے کوچ پرویزاحمد نے ان کی محنت میں مدد کی ہے اور آج انہیں اس مقام پر لے گئے جہاں وہ جاننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
کوچ پرویز اختر کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ نوجوانوں کی تیاریوں کے لیے تیار ہیں دیویش سے پہلے مسٹر انڈیا کا خطاب حاصل کرچکے انوج تالیان سمیت کئی نامور کھلاڑیوں کے کوچ رہے ہیں۔
کوچ پرویز نے کہا دیویش نے اس ملک کا دنیا میں نام روشن کیا ہے، یہ فخر کی کی بات ہے۔ پرویز اختر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے فٹ انڈیا کی مہم چلائی اس سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا باڈی بلڈنگ کے میدان میں اب نوجوانوں کو ملازمت بھی مل رہی ہے اور حکومت کا سپورٹ بھی ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ' فٹ ہے انڈیا تو ہٹ انڈیا۔'