اس بازار میں خواتین کی جانب سے تیار کیے گئے سامان کی دکانیں بھی لگائی گئیں، ان دکانوں سے یہاں پر موجود تمام خواتین نے خریداری بھی کی۔
اس پروگرام میں راجسھتان مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے اعزاز بھی دیے گئے۔ واضح رہے کہ جے پور کے کربلا گراؤنڈ میں 17 فروری کو غیر معینہ احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے بعد سے آج تک یہ احتجاج اسی طرح سے مسلسل جاری ہے۔ اس درمیان کثیر تعداد میں خواتین موجود تھیں۔
اس مظاہرے کی سربراہ ڈاکٹر نیلوفر خان نے بتایا کہ 'عالمی یوم خواتین کے موقع پر آج کربلا گراؤنڈ میں جو احتجاج چل رہا ہے۔ وہاں ایک نمائش لگائی گئی اور یہاں پر جو خواتین کا ہنر ہے اس کو یہاں پر دکھایا گیا ہے۔'
انہوں نے بتایا کی مسلم خواتین کے ہنر کو ایک پہچان دینے کے لیے اس مارکیٹ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نیلوفر کے مطابق صرف آج ہی نہیں بلکہ یہ بازار اسی طرح یہاں پر مسلسل جاری رہے گا۔
یہاں پر آئی ہوئی خواتین کا کہنا تھا کہ ہم ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے اندر جو ہنر ہے اس کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی جائے اور مرکز کی مودی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جو شہریت ترمیمی قانون لایا گیا ہے اس قانون کو واپس لیا جائے۔