ترال: نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کے لیے مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے فنڈس کو ہمیشہ اپنی انتخابی مہم پر صرف کیا اور دھاندلی کر کے اقتدارِ پر قبضہ جمایا۔ اس کی وجہ سے وادی میں عسکریت پسندی کو فروغ ملا۔ ان خیالات کا اظہار بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے آج ترال کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ Altaf Thakur on JKCA Scam
الطاف ٹھاکر نے بتایا کہ کرکٹ گھپلے میں ملوث فاروق عبداللہ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی اور جلد ہی انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ اور ان کی پارٹی نے آج تک یہاں مرکز کے فنڈس کو اپنی تجوری بھرنے کے لیے استعمال کیا اور عوامی خزانہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ کر الیکشن ایجنڈے کے لیے استعمال کیا اور دھاندلیوں سے اقتدار پر قبضہ جمایا۔
الطاف ٹھاکر نے بتایا کہ سال 1987 میں نیشنل کانفرنس نے ہی دھاندلیاں کیں جس کی وجہ سے یہاں عسکریت پسندی نے جنم لیا اور صلاح الدین اور یاسین ملک جیسے لوگ ہمارے سامنے آگئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فاروق عبداللہ کے نصیب میں جیل لکھا ہے اور وہ جلد ہی جیل جائیں گے۔ اس سے قبل الطاف ٹھاکر نے ڈاڈسرہ علاقے میں متعدد عوامی وفود سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:
JK Cricket Scam: ’بدعنوانی معاملے میں لالو یادو جیل جا سکتے ہیں تو فاروق عبداللہ کیوں نہیں؟‘ـ
واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کو نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ Charge Sheet Against Farooq Abdullah تقریباً دو ماہ قبل فاروق عبداللہ کو ای ڈی دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا جہاں ان سے تین گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرینگر نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے جے کے سی اے منی لانڈرنگ کیس میں فاروق عبداللہ اور دیگر کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر 27 اگست کو سمن جاری کیا۔