بھوپال :مدھیہ پردیش کے اندور لا کالج معاملے پر سخت موقف اپناتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے اندور کمشنر کو جلد از جلد اس کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔Madhya Pradesh Home Minister Direct To Probe Into Controversial Book And Professor انہوں نے کہا کہ مذہبی جنون کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو کسی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ تفتیش کے دوران اگر وہ قصوروار پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ریاستی وزیر داخلہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اندور لا کالج کے معاملے میں اب تک پانچ لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔جانچ کے لئے پانچ دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ کتاب ایک پرائیویٹ پبلکیشن کی بتائی جا رہی ہے۔ اس کے مصنف ڈاکٹر فرحت خان ہیں۔ گروپ وائلنس اینڈ کریمنل جسٹس میتھڈ نامی اس کتاب میں ہندوؤں، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے خلاف قابل اعتراض باتیں لکھی گئی ہیں۔ بعض مقامات پر ہندوؤں اور ہندو مذہب سے وابستہ تنظیموں پر مذہب کی بنیاد پر اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:Narottam Mishra on Badruddin Ajmal بدرالدین اجمل کے ہندوؤں سے متعلق بیان پر نروتم مشرا کا سخت ردعمل
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ اندور پولیس کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گورنمنٹ نوین لاء کالج اندور کے قانون کے پروفیسر ڈاکٹر فرحت خان کی متنازعہ کتاب سے متعلق معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اندر تحقیقات کرے اور ایف آئی آر درج کرے ۔ Madhya Pradesh Home Minister Direct To Probe Into Controversial Book And Professor