مشاعرے ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے حساس ایک قلم کار ہوتا ہے۔ قلم کار ملک میں ہورہے واقعات کو اور سماج میں پھیل رہی برائیوں کو اپنے قلم کے ذریعہ منظرعام پر لانے اور انہیں سدھارنے کا کام کرتا ہے۔ موجودہ دور میں روایتی شاعری سے ہٹ کر عصری اور موضوعاتی شاعری نہایت کامیابی کے ساتھ کہی جا رہی ہے اور سنی جا رہی ہے۔ Kareem Siddharth Nagri Poetry
ملک کے نامور نوجوان شاعر کریم سدھارتھ نگری نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'میرا نام کریم الدین خان ہے اور میرے والد کا نام وحید الدین خان ہے۔ میرا قلمی نام کریم سدھارتھ نگری ہے میرا وطن سدھارتھ نگر اتر پردیش ہے اور میرا کاروبار ممبئی مہاراشٹر میں ہے اور میں وہیں رہتا ہوں۔'
کریم الدین نے شاعروں میں گروپ بندی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ شاعروں میں گروپ بندی ادب کو نقصان پہنچاتی ہے اور جہاں تک سینئر شعراء کا نوجوان شعراء کو نظر انداز کرنے کا سوال ہے یہ تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے، اس دور میں بھی ہو رہا ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ سینئر شعراء و ادبا کو چاہیے کہ وہ نوجوان قلم کاروں کی ہمت افزائی کریں تاکہ اردو ادب کا یہ کارواں یوں ہی چلتا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: Ek Shayar Series: شاعر اور انکم ٹیکس آفیسر اسلم حسن کا شعری سفر
کریم الدین نے اردو کے حوالے سے ماہ رمضان المبارک کے حوالے سے بہترین اشعار سنائے۔ انھوں نے ای ٹی وی بھارت کے خاص پروگرام ایک شاعر کے حوالے سے کہا کہ' ای ٹی وی اردو بھارت شعرا اور ادبا کے لیے ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اس خاص پروگرام ایک شاعر میں شرکت کرنے کا موقع ملا'۔ انہوں نے نوجوان شعراء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے رہیں اور استاد شعراء کو پڑھتے رہیں، صلاح و ستائش اور کامیابی کی تمنا کیے بغیر اپنی محنت سے آگے بڑھتے رہیں۔