سانبہ (جموں و کشمیر) : سیکیورٹی فورسز کو صوبہ جموں کے سانبہ ضلع میں سرحدی علاقہ گگوال کے قریب ایک ٹنل کا سراغ ملا ہے۔ سیکورٹی فورسز کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے سرنگ کی لمبائی وغیرہ کا سراغ لگانے کے لئے علاقے کو محاصرے میں لیکر وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کا گمان ہے کہ پاکستان سے بھارت میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو معاونت کرنے، انہیں سامان وغیرہ فراہم کرنے اور سرحد کے اس پار دراندازوں کو پہنچانے کے لیے اس سرنگ کو ممکنہ طور پر استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ سرنگ ایک ایسے وقت میں دریافت ہوئی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر حالات پوری طرح سے پر امن نہیں ہے۔ آج ہی صوبہ جموں کے سرحدی ضلع راجوری میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکہ میں ایک اگنی ویر کی موت واقع ہو گئی جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ جبکہ صوبہ جموں میں ہی پاکستانی طیارہ کمپنی پی آئی اے تحریری کنندہ ایک غبارہ بھی ضبط کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ای ڈی دھماکہ میں ایک اگنی ویر ہلاک، دو افراد زخمی
سیکورٹی فورسز کی جانب سے آئے روز پاکستانی حکومت اور پاکستانی ایجنسیز پر جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے اور اسے ایک نئی جلا بخشنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ بھارتی حفاظتی ایجنسیز کا ماننا ہے کہ ڈرونز اور اس طرح کی ہی سرنگوں کے ذریعے یہاں نارکو ٹیررزم کو بھی سپورٹ فراہم کرنے کی غرض سے سرحد پار سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں منیشات، ہتھیار بھیجے جاتے ہیں جبکہ اس طرح کی سرنگوں سے بھی درانداز کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔