جموں: کرائم برانچ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جموں میں کرائم برانچ کی ونگ نے آر ایس پورہ، گریٹر کیلاش اور بشنہ علاقوں میں جعلی اسٹامپ پیپر سے متعلق، چھاپہ مار کارروائی انجام دی اور دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔‘‘ پولیس بیان کے مطابق اس ضمن میں ایف آئی آر 89/23 آئی پی سی کی دفعات 420، 465، 468، 471، 409 اور 130-B کے تحت درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
کرائم برانچ کے مطابق ایک تحریری شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی۔ تحریری شکایت میں، شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ عدالتی دستاویز میں استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرز میں گھپلہ ہو رہا ہے جس سے محکمہ ریونیو کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ کرائم برانچ کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران کئی دستاویز، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ وغیرہ ضبط کیے گئے
"شکایت کنندہ نے الزام عاید کیا تھا کہ ’’دھوکہ دہی کے ان معاملات میں جعلی زرعی سرٹیفکیٹ کی اجرائی بھی شامل ہے، جو کہ زرعی زمین کی خرید و فروخت میں انتہائی اہم دستاویز ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ اکثر غیر قانونی طور پر ایسے افراد کو جاری کیے جاتے ہیں جن کا زراعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ ابتدائی تفتیش کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے پایا کہ ملزمان کی سرگرمیوں نے نہ صرف زمین کے لین دین کی قانونی سالمیت سے سمجھوتہ کیا ہے بلکہ محکمہ ریونیو اور سرکاری خزانے کو بھی کافی مالی نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھیں: Posing as IPS Officer دھوکہ دہی کے الزام میں جعلی آئی پی ایس افسر گرفتار
پولیس بیان کے مطابق: ’’اس منظم گینگ کے طریقہ کار میں افراد کا ایک نیٹ ورک شامل تھا، جس میں محکمہ ریونیو کے کچھ اہلکار، پراپرٹی ڈیلر، اسٹامپ پیپر بیچنے والے، کمیشن ایجنٹس وغیرہ شامل تھے۔ تاہم ابتدائی طور پر چھاپے مار کارروائی کے دوران دو افراد کو ہی حراست میں لے لیا گیا ہے۔