وادی کشمیر میں آج صبح سے تازہ برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ بھاری برفباری کی وجہ سے زمینی و فضائی سروس متاثر ہوگئی ہے۔
سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کی صبح پروازیں موخر کی گئی تھیں تاہم وادی میں برفباری میں شدت کی وجہ سے تمام پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
برفباری سے سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوگئی اور گاڑیوں کا چلنا دشوار ہو گیا ہے۔ وہیں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بس اسٹاپ سے لیکر پولیس اسٹیشن تک جانے والی سڑک پر پیدا ہونے والی پھسلن سے ایک سڑک حادثہ پیش آیا۔ ایک ویگنار کار بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے واقع ڈرین میں گر گئی تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
برفباری سے معمولات زندگی کافی متاثر ہوگئی ہے اور لوگ پیدل سفر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایک بار پھر انہیں بہتر سہولت پہنچانے میں نا کام رہی۔ لوگوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ برفباری کے دوران وہ لوگوں کو سہولت پہنچانے کے لئے تیار ہیں لیکن زمینی سطح پر کچھ بھی کام نہیں ہو رہا ہے۔
وہیں ای ٹی وی بھارت نے انتظامیہ تک لوگوں کی آواز پہنچائی اور سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔
بھاری برفباری کی وجہ سے اکثر و بیشتر راستے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اگر انکے یہاں کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو انہیں مزید مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔
ای ٹی بھارت نے ایسے کچھ افراد سے بات کی۔انکا کہنا تھا کہ وہ بڈگام کے ایک دور دراز علاقے کژھوارا سے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راستوں پر برف جمع ہونے کی وجہ سے انہیں مریضوں کو کاندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
کشمیر میں حالیہ برفباری کے بعد سڑکوں کے کناروں پر ابھی بھی برف جمع ہیں جسے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں آج تازہ برفباری کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
برفباری کے دوران بڈگام بس اسٹاپ سے لیکر پولیس اسٹیشن تک اکثر پھسلن پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سڑک حادثات پیش آتے ہی ایسے میں انتظامیہ کو چاہیے کہ جب بھی برفباری ہو اس سڑک پر لوگوں کو چلنے میں دشواری پیدا نہ ہو اسکے لئے کچھ اقدامات کریں۔