سابق مرکزی وزیر اور کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما سلمان خورشید نے شاہین باغ میں دہلی پردیش کانگریس کی 'پول کھول' مہم میں بغیر کسی پارٹی اور لیڈر کا نام لیے فرقہ پرست پارٹیوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔
سلمان خورشید نے کہا کہ اپنے بچو ں اور نسل کو بچانا ہے تو ابھی سے محنت کرنی ہوگی تبھی صحیح باغ لگ سکے گا اور صحیح پھول کھلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شاہین باغ جمنا ندی کے کنارے آباد ہے اور ملک میں دو ہی ندیاں ہیں جمنا اور گنگا، دونوں الہ آباد میں جاکر ملتی ہیں۔ گنگا جمنا نہ ہندوؤں کی ہیں نہ مسلمانوں کی نہ ہی سکھوں اور نہ ہی عیسائیوں کی بلکہ دونوں ندیاں ہر بھارت کی ہیں۔
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ 'اگر ایک ہندو سے پوچھیں کہ جنت کہاں ملے گی تو وہ کہیں گے ماں کے قدمو ں کی دھول اگر سر میں لگالو تو جنت وہیں ملے گی۔ اگر یہی بات مسلمان سے پوچھیں تو جواب ملے گا جنت ماں کے قدموں کے نیچے ملے گی۔
اس موقع پر سلمان خورشید بہادر شاہ ظفر کی غزل پڑھی کہ
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
کہ ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
انہوں نے کہا کہ اس اجڑے دیار میں ایک بار پھر ہمیں باغیچہ بنانا ہے۔ اس اجڑے دیار کو سینچنا ہے تاکہ یہاں چاروں جانب پھول کھلے اور یہاں گلستاں بنے اور یہا ں ہم فخر سے کہہ سکیں کے آنے والی نسلوں سے کہہ سکیں:
ہم لائیں ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس دیش کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے
تم ہی بھویشیہ ہو میرے بھارت وشال کے
اس دیش کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے