نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کو کہا کہ ملک میں پریس کی آزادی کی بات کرنے والی مودی حکومت میں کابینی وزیر اسمرتی ایرانی سے جب ایک صحافی نے سوال پوچھا تو وہ اس پر بھڑک گئیں اور پھر اسے تب مرکزی وزیر کے غصے شکار بننا پڑا اور اب ان کی نوکری بھی چلی گئی۔ کانگریس نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پیج پر کہا کہ ایک روزنامہ کے صحافی نے گزشتہ روز محترمہ ایرانی سے سوال کیا تھا، تو است مرکزی وزیر کے غصے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اس کے باس سے بات کریں گی، لیکن آج واقعی وہ صحافی کی نوکری چلی گئی۔
-
स्मृति ईरानी जी कल जिस पत्रकार को धमका रही थीं। आज उसकी नौकरी चली गई।
— Congress (@INCIndia) June 10, 2023 " class="align-text-top noRightClick twitterSection" data="
पत्रकार ने स्मृति जी से सवाल करने का गुनाह किया था, नौकरी खत्म।
इतनी नफरत? https://t.co/99aLMSClcE
">स्मृति ईरानी जी कल जिस पत्रकार को धमका रही थीं। आज उसकी नौकरी चली गई।
— Congress (@INCIndia) June 10, 2023
पत्रकार ने स्मृति जी से सवाल करने का गुनाह किया था, नौकरी खत्म।
इतनी नफरत? https://t.co/99aLMSClcEस्मृति ईरानी जी कल जिस पत्रकार को धमका रही थीं। आज उसकी नौकरी चली गई।
— Congress (@INCIndia) June 10, 2023
पत्रकार ने स्मृति जी से सवाल करने का गुनाह किया था, नौकरी खत्म।
इतनी नफरत? https://t.co/99aLMSClcE
پارٹی نے کہا ’’جس صحافی کو اسمرتی ایرانی کل دھمکیاں دے رہی تھیں، آج اس کی نوکری چلی گئی۔ صحافی نے اسمرتی جی پر سوال کرنے کا گناہ کیا، نوکری ختم۔ اتنی نفرت۔‘‘ کانگریس نے محترمہ ایرانی کی صحافی کو دھمکانے والی ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں ’’آپ ہوں گے بڑے رپورٹر ۔ آپ کو میرے حلقے کے لوگوں کی توہین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میں تمہارے باس کو فون کروں گی۔ میں بہت پیار سے آپ سے درخواست کررہی ہوں آگے سے ایسا نہ کریں۔‘‘
اس کے ساتھ ہی پارٹی نے ملک میں آزادی صحافت کے حوالے سے ایک بینر بھی لگایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا درجہ 180 ممالک میں سے 161 واں ہے جو کہ گزشتہ سال 150 واں تھا۔
یو این آئی