بہار: شہر گیا میں واقع گیا کالج میں پرنسپل کی کرسی کے دو دعویدار ہیں۔ دونوں خود کو کالج کا پرنسپل بتارہے ہیں۔ ایک گیسٹ ہاؤس سے اور دوسرے دفتر سے کام کررہے ہیں۔ کورٹ کے حکم کا حوالہ دینے والے پرنسپل کالج کے پرنسپل کے دفتر سے کام کر رہے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے حکم کا حوالہ دینے والے پرنسپل گیسٹ ہاؤس سے پرنسپل کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک ہی کالج کے دو پرنسپلز کی موجودگی کے باعث کالج کا عملہ بھی تذبذب کا شکار ہے کہ وہ کس کا حکم مانیں اور کس کا نہیں؟ Two principles' contention affect functioning of Gaya College
دراصل گزشتہ ماہ گیا کالج کے پرنسپل ڈاکٹر دنیش پرساد سنہا کا یونیورسٹی سے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ دیپک کمار کو باقاعدہ طور پر پرنسپل بنایا گیا۔ مگدھ یونیورسٹی کے حکم پر دیپک کمار گیا کالج آئے اور چارج سنبھال لیا۔ اس دوران دنیش پرساد سنہا نے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ ہائی کورٹ نے یونیورسٹی کے حکم پر روک لگا دی۔ عدالت سے حکم امتناعی جاری ہوتے ہی دنیش پرساد سنہا گیا کالج پہنچے اور انہوں نے چارج سنبھال لیا۔ دیپک کمار چارج سنبھالتے ہی گیسٹ ہاؤس چلے گئے۔ دیپک کمار نے یونیورسٹی کو ساری کہانی سنائی۔ لیکن ابھی تک یونیورسٹی کی طرف سے کوئی کارروائی یا حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دونوں پرنسپل اس وقت گیا کالج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:۔ گیا: کالج کے بورڈ سے اردو نام ہٹائے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار
دنیش پرساد سنہا کا کہنا ہے کہ عدالت کا حکم سب سے اہم ہے۔ میں اس کی پیروی کر رہا ہوں۔ مجھے یونیورسٹی نے ہراساں کیا، اس لیے میں نے انصاف کے لیے عدالت کا رخ کیا اور ہمیں انصاف ملا۔ وہیں دیپک کمار نے بتایا کہ کالج کے تمام حالات سے راج بھون کے پرنسپل سکریٹری کو وی سی کو آگاہ کیا گیا ہے۔ چونکہ اب یہ معاملہ عدالتی عمل سے جڑا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے یقین دلایا گیا ہے کہ آئندہ دو تین روز میں اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب گیا کالج ایمپلائز یونین کے سیکریٹری سنتوش سنگھ کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے پرنسپل دیپک کمار ہیں۔ دنیش پرساد سنہا عدالت کے حکم پر برقرار ہیں۔