عالمی وبا کورونا وائرس کے انفیکشن سے ضلع گیا بھی متاثر ہوا ہے اور یہاں ابھی تک کل پانچ پازیٹیو کیسز سامنے آئے ہیں، حالانکہ اس میں راحت کی بات یہ ہے کہ پانچ مریضوں میں سے تین مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔
گیا میں کورونا وائرس کے پازیٹیو معاملے آنے کے بعد سے ہی انتظامیہ نے لاک ڈان میں مزید سختی کی ہے، بے وجہ گھر سے نکلنے والے، یا پھر محلے و گلیوں میں بھیڑ لگا کر تفریح کرنے والوں پر ڈرون کیمرے سے نگرانی کی جارہی ہے۔
جن مقامات پر بھیڑ نظرآتی ہے یا پھر لاک ڈان کی خلاف ورزی کا فوٹیج سامنے آتا ہے فوری طور سے پولیس کی ٹیم وہاں کاروائی کے لیے روانہ ہوجاتی ہے۔
شہر میں ڈرون کیمروں سے نگرانی کے ویڈیو فوٹیج سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ پولیس وانتظامیہ کی سختی کی وجہ سے سڑکیں سنسان ہیں، سڑکوں پر صرف پولیس کی گاڑیاں اور ڈیوٹی انجام دیتے پولیس جوان ہی نظرآرہے ہیں۔ ڈرون کیمرہ کا خوف یہ کہ باشندے اپنے گھروں کے چھت پر بھی کھڑے نظر نہیں آرہے ہیں۔
اب تک ضلع پولیس نے لاک ڈان کی خلاف ورزی کے معاملے میں 53 ایف آئی آر درج کی ہیں، قریب 92 افراد کی گرفتاری ہوئی ہے اور 92 چھوٹی بڑی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں ضبط کی گئی ہیں۔
اہم بات یہ ہے خلاف ورزی کے معاملے میں انتظامیہ نے اب تک تقریباً پچاس لاکھ آٹھ ہزار تین سو روپئے بطور جرمانہ وصولے ہیں۔
ایس ڈی او ستیندر کمار نے کہا کہ لاک ڈان پر سختی سے عمل کرانے کے لیے کاروائی جاری ہے اور ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جن علاقوں میں کورونا کیسز سامنے آئے ہیں یا مشتبہ مریض پائے گئے ہیں۔