ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ٹھنڈے مشروبات کا بازار لاک ڈاؤن میں ٹھنڈا پڑا ہے، جس کی وجہ سے دکاندار جوس، آئس کریم فروخت نہ ہونے سے مایوس ہیں۔
گرمی سے راحت پانے کے لیے تمام لوگوں کو ٹھنڈے مشروبات بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں، لیکن اس بار اس کا بازار بالکل سرد ہوگیا ہے۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں آئس کریم کی دکانیں بند ہیں، وہیں لوگوں کے باہر نہ جانے کی وجہ سے پھلوں کے جوس کی فروخت نہیں ہوپارہے ہیں، جس کی وجہ سے دکانداروں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پٹنہ میں تپتی گرمی میں گلے کو معطر کر دینے والے مشروبات کا بازار ان دنوں سرد پڑا ہے، گنے کے جوس اور پھلوں کے جوس کی دکانیں ابھی کچھ ہی کھلی ہیں، لیکن پھر بھی آئس کریم نظر نہیں آرہی ہے۔
اس سبھی کی واحد وجہ حکومت کی جانب سے نافذ لاک ڈاؤن ہے جو کورونا انفیکشن سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کی طرف سے نافذ لاک ڈاؤن کے حوالے سے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق پھلوں اور جوس کی دکانیں کھولی جاسکتی ہیں، لیکن آئس کریم کی دکانوں کو کھولنے پر پابندی ہے۔
وہیں دوسری جانب پھلوں کے جوس کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کے سبب اس کا بازار سست پڑا ہے۔
ریاستی دارالحکومت میں 150 سے 200 جوس کی دکانیں ہیں، جبکہ جوس کی ریڑھی والی دوکانیں تقریباً 600 سے 700 ہیں، تاہم مستقل جوس کی دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، لیکن ریڑھی والی دکانیں کھلی ہیں پر گراہک ندارد۔
دکانداروں کے مطابق پہلے وہ روزانہ 2000 سے 2500 روپے تک کماتے تھے ، لیکن آج کل وہ 100سے 200 ہی کمائی وہ بھی بڑی مشکل سے کرپاتے ہیں۔
بہار میں موسم گرما کے دوران لوگ گنے کا رس پینا خوب پسند کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گنے کے رس کی تقریبا تمام تر دکانیں بند ہیں۔