لکھنؤ کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز دھوکہ دہی معاملہ سے متعلق ایک معاملے میں مشہور ہریانوی رقاصہ سپنا چودھری اور دیگر چار لوگوں کے خلاف میں الزامات طئے کیے ہیں۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شانتنو تیاگی کی عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعہ 406 اور 420 کے تحت الزامات طے کیے ہیں۔Sapna Chaudhary Fraud Case
سماعت کے وقت چودھری اور دیگر ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 12 دسمبر مقرر کر دی۔ چودھری کے علاوہ دیگر ملزم جنید احمد، ایواد علی، امیت پانڈے اور رتناکر اپادھیائے بھی موجود تھے۔ اس معاملے کی ایف آئی آر سب انسپکٹر فیروز خان نے 14 اکتوبر 2018 کو آشیانہ تھانے میں درج کرائی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق 13 اکتوبر 2018 کو دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک سپنا اور دیگر اداکاروں کا ایک ڈانس پروگرام منعقد ہونا تھا ۔ پروگرام کے ٹکٹ 300 روپے فی فرد کے حساب سے فروخت ہوئے۔ ہزاروں لوگوں نے ٹکٹ خریدے تھے لیکن جب وہ اس مقام پر پہنچے تو پتہ چلا کہ پروگرام منسوخ ہو چکا ہے۔ الزام لگایا گیا کہ پروگرام منسوخ ہونے کے باوجود لوگوں کو ان کے پیسے واپس نہیں کیے گئے۔ جس کے بعد لوگوں نے پروگرام کے منتظمین کے خلاف ہنگامہ شروع کردیا۔ پولیس نے اس معاملے میں کیس درج کیا تھا اور تحقیقات کے بعد چودھری اور دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔