جنوبی قصبہ شوپیان کی 17 سالہ آسیہ جان اور ان کی بھاوج نیلوفر شکیل 29مئی2009 کو سہ پہر کے وقت لاپتہ ہوئی تھیں اور اگلے روز صبح دونوں کی لاشیں رمبی آراء سے بر آمد ہوئیں۔
یہ دونوں اپنے باغ میں گئی تھیں اور لوٹتے وقت لاپتہ ہو گئی تھیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آسیہ اور نیلوفر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ اہلخانہ اور شوپیاں کے عوام نے اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا۔
وہیں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں کی موت ندی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان کی مسخ شدت لاشیں ندی سے ہی برآمد ہوئی تھیں۔
عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کو آج دس برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن آج تک اس کیس میں کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوئی ہے اور عصمت ریزی کی شکار آسیہ اور نیلوفر کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ قصورواران آزاد گھوم رہے ہیں۔
شکیل اور ان کے بارہ سالہ بیٹے سوزین کے علاوہ ان کے رشتہ دار گزشتہ دس برسوں سے شوپیاں میں ان دونوں خواتین کی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف خاموش احتجاج کرتے ہیں۔
آسیہ کے بھائی اور نیلوفر کے خاوند شکیل احمد آہنگر اب پوری طرح سے بد ضن اور نا امید ہو چکے ہیں لیکن اس کے با وجود بھی وہ انصاف ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
نالہ رمبی آرہ میں جائے وقوعہ پر پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے شکیل نے بتایا کہ گرچہ سبھی ایجنسیوں نے ان کے ساتھ نا انصافی کی لیکن انہیں امید ہے کہ ایک روز انہیں انصاف ضرور ملے گا اور تب تک وہ لگاتار لڑتے رہیں گے۔
شکیل دوہرے عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ میں نیشنل کانفرنس کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کے مطابق عمر عبداللہ نے انصاف کرنے کے بجائے یہ اعلان کیا تھا کہ دونوں کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی۔
شکیل نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس نے جنوبی کشمیر خاص کر شوپیاں میں لوگوں کو وعدہ کیا کہ وہ اس کیس میں انصاف فراہم کرائیں گی اور اسی بنا پر ووٹ حاصل کیے لیکن بعد میں جب اقتدار میں آئی تو انہوں (محبوبہ مفتی) نے اس کیس کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا۔
شکیل کہتے ہیں کہ حکومت کے کسی بھی متعلقہ محکمہ اور ایجنسی نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جبکہ جھوٹی تحقیقات کرکے قصوروار قاتلوں کو چھوٹ دے دی۔
واقعہ کے بعد سے پوری وادی میں دو ماہ تک احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ حکومت کی جانب سے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے جسٹس جان کمیشن کی تشکیل دی۔ جبکہ پولیس کی جانب سے بھی ایس آئی ٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تاہم کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلنے پر یہ کیس سی بی آئے کو سونپا گیا۔ لیکن حیران کن طور سے اس نے بھی رپورٹ پیش کی کہ دونوں کی موت ڈوبنے سے ہوئی، جبکہ عصمت ریزی پر کوئی رپورٹ پیش نہیں ہوئی۔
تاہم ان سبھی تحقیقات کو نہ تو ان کے اہل خانہ نہ ہی لوگوں نے قبول کیا اور ان سبھی تحقیقاتوان کو جھوٹا مانا۔
اس کیس کی از سر نو تحقیقات کی دائر مفاد عامہ کی درخواست کو بھی عدالت عظمی نے خارج کیا۔
عوامی حلقوں کی جانب سے لگاتار مانگ کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں ملوث افراد کو سامنے لاکر سخت سزا دی جائے۔