ایئرلائنز کے ملازمین کے ایک گروپ نے ایس بی آئی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ ان کے کنسورٹیم اور کچھ باہری سرمایہ کاروں کو کمپنی کے لیے بولی لگانے دیں۔
ملازمین کی تنظیم نے اپنی یہ تجویز ویلفیئر آف انڈین پائلٹس(ایس ڈبلیو آئی پی) اور جیٹ ایئر کرافٹس مینٹینس انجینئرس ویلفیئر ایسوسی ایشن(جے اے ایم ای ڈبلیو اے) کو بھی بھیجا ہے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ ملازم ایئر لائنس سے ہونے والی آمدنی کو اسی میں لگائیں گے۔ وہ اس کی پروڈکٹی ویٹی بڑھانے پر خصوصی توجہ دیں گے۔ خط میں لکھا ہے ایئر لائنز کے ساتھ کئی پریشیانیاں ہیں۔ اس میں اونچی آپریٹنگ لاگت، ضرورت سے زیادہ ملازمین جیسے ایشوز شامل ہیں۔
جیٹ ایئرویز کو قرض دینے والے ایس بی آئی کی قیادت میں فی الحال ایئر لائنز میں اپنی حصہ داری بچنے کے لیے بولی لگا رہے ہیں۔ تاکہ کنسورٹیم ایئر لائنز کو دیے گئے 8400 کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کرسکے۔ ایس بی آئی کی مرچینٹ بینکنگ یونٹ ایس بی آئی کیمپس اپریل کے آخری وقت تک سرمایہ کاروں کی تجاویز کو شارٹ لسٹ کرے گی۔
جیٹ کو اپنا وقار بچائے رکھنے کے لیے 400 کروڑروپے کی فنڈ کی ضرورت تھی۔ امید تھی کہ جیٹ کو قرض دینے والے بینکوں کے کنسورٹیم ایس بی آئی سے یہ پیسہ مل جائے گا، لیکن آخری وقت میں بینک نے ایمرجنسی فنڈ دینے سے انکار کردیا۔
اس کے بعد جیٹ کے پاس پرواز کے لیے ایندھن لینے کے پیسے نہیں بچے ہیں اس لیے اس نے اپنی سورسز کو پوری طرح بند کرنے کا اعلان کردیا۔
جیٹ کے بند ہونے کے بعد اس کے تقریباً 20 ہزار ملازمین کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔