کمپنیوں کے رجسٹرار کے ذریعے چلائی گئی خصوصی مہم کے تحت مالی برس 21-2020ء تک کمپنیوں سے متعلق قانون کی دفعہ 248 (1)پر عمل کرتے ہوئے 3,82,875 کمپنیوں کو بند کردیا گیا۔ Government Struck off 3.82 Lakh Companies in Special Drive
کارپوریٹ امور کے وزیر مملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔
وضاحت کرتے ہوئے وزیر راؤ اندر جیت نے کہا کہ کمپنی ایکٹ 2013 (دی ایکٹ)میں ’’شیل کمپنی‘‘لفظ کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ یہ عام طور پر ایسی کمپنیوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جو سرگرم طورپر کاروباری سرگرمیاں انجام نہیں دیتی یا ان کے پاس کوئی اہم اثاثہ نہیں ہوتا۔
بعض معاملوں میں اس طرح کی کمپنیوں کو ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ، غیر واضح ملکیت، غیر اعلانیہ جائیداد وغیرہ جیسے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سرکار کے ذریعے تشکیل شدہ خصوصی ٹاسک فورس نے ’’شیل کمپنیوں‘‘کے معاملوں میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ مشتبہ شیل کمپنیوں کی شناخت کے لیے الرٹ کی شکل میں بعض ریڈ فلیگ اشاریہ کے استعمال کی سفارش کی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ سرکار نے کمپنی ایکٹ کی دفعہ 248(1)کے التزامات کو نافذ کرکے کمپنیوں کی شناخت کرنے اور اُنہیں بند کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی ہے۔
مزید تفصیل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے رجسٹرار (آر او سی)نے کمپنیوں کے رجسٹر سے قانون کے مناسب عمل کو نافذ کرنے کے بعد اُن کمپنیوں کا نام ہٹا دیا ہے۔ ایسا تب کیا گیا، جب آر او سی کے پاس یہ تسلیم کرنے کی مناسب وجہ تھی کہ یہ کمپنیاں پچھلے دو مالی برس کی مدت کے دوران کوئی کاروبار یا سرگرمی نہیں دکھا رہی ہیں۔ آر او سی اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اِس طرح کی کمپنیوں نے قانون کی دفعہ 455 کے تحت غیر فعال کمپنی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے اِس مدت کے اندر کوئی درخواست نہیں دی۔'
مزید پڑھیں:
- Allow Probe Into Major Bank Frauds: 'پچاس ہزار کروڑ کا بینک فراڈ لیکن سی بی آئی جانچ کی اجازت نہیں'
یو این آئی