کسان گزشتہ 77 دنوں سے دہلی کے بارڈر پر زرعی قوانین کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس دوران سیاسی جماعتوں نے بھی ایوان میں کسانوں کی حمایت میں تینوں قوانین کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کی۔
کانگریس کے سینیئر رہنما کپل سبل نے راجیہ سبھا میں کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا کہ ملک کے 86 فیصد کسان کے پاس 5 ایکڑ زمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ تمام کسان خود کفیل ہو گئے ہیں۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما نے کہا کہ حکومت کو سوال کا جواب دینا ہوگا، تقریر تو ہو سکتی ہے لیکن زمینی حقیقت کو آپ کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کیا کسان دہلی کے بارڈر پر اس لئے مظاہرہ کر رہے ہیں کہ وہ خود کفیل ہو گئے ہیں۔
کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بجٹ کو 'نہ جوان نہ کسان' والا بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوٹ بوٹ، بجٹ کا حصہ ہے لیکن کسانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
بی ایس پی سے رکن پارلیمان حاجی فضل الرحمان نے لوک سبھا میں کہا کہ کسان رو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنا کسانوں کی رقم کی ادائیگی وقت پر نہیں کی جا رہی ہے۔ اس دوران انہوں نے اقلیتی بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا نعرہ ''سب کا ساتھ سب کا وکاس'' تھا لیکن اقلیتوں کے لئے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے 218 کروڑ کی تخفیف کر دی گئی۔
بہوجن سماج پارٹی کی رکن پارلیمان سنگیتا آزاد نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ حکومت نے دشمنوں جیسا سلوک کیا ہے۔