کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص کرنے والے سینیئر اطالوی ڈاکٹر انتونیو پیسنٹی نے بتایا کہ انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) یونٹوں میں زیر علاج مریضوں میں سے نصف 65 سال سے کم عمر کے ہیں'۔
جملہ 60 ملین شہریوں پر مشتمل اٹلی میں تاحال 4032 افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور 47021 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔
ڈاکٹر انتونیو پیسنٹی نے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اس کی شرح اموات زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بتایا ہے کہ 'اٹلی کی زیادہ تر آبادی بڑی عمر کے لوگوں پر مبنی ہے'۔
تاہم پیسنٹی نے نشاندہی کی کہ 20 اور 30 برس کے افراد میں بھی کچھ مریض سخت کشمکش میں مبتلا ہیں۔
سینیئر اطالوی ڈاکٹر انتونیو پیسنٹی کی گفتگو کے اہم نکات:
کورونا وائرس کی شدت سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے یونٹ کے سربراہ انتونیو پیسنٹی کا کہنا ہے کہ 'چین میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہی سے ہم جانتے تھے کہ اس کا اثر اٹلی میں بھی ہوگا، لیکن ہم پہلے سے تیار نہیں تھے، جیسے جیسے مریضوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ویسے لوگوں میں خوف بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جب اس کی ابتدا ہوئی تو یہ مرض ناقابل فہم تھا۔
اس ہنگامی صورت حال کے بعد اٹلی کے مختلف شہروں میں گہری نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ سب 22 فروری کو آئی سی یو میں ایک مریض کے ساتھ شروع ہوا تھا اور ہم نے ابتک اپنے آئی سی یو میں 1،800 مریضوں کا علاج کیا ہے ۔جس کی توقع ہم کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس دوران مریضوں کی تعداد آسمان تک چھوتی چلی گئی۔
پہلے ہفتے ہم نے 15 مختلف اسپتالوں میں 15 کوآرڈ کوویڈ آئی سی یوز کھولے کیونکہ ہمارا مقصد اس طرح کے مریضوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا تھا۔
آئی سی یو میں ہم عام طور پر اس بارے میں فیصلے کرتے ہیں کہ انتہائی نگہداشت مفید ہوگی؟ پہلے ہمیں ہفتے میں دو بار فیصلہ کرنا پڑتا تھا، لیکن اب ہمیں ایک دن میں دس بار فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: تازہ تفصیلات: کورونا سے اٹلی میں بھیانک صورتحال
خوش قسمتی سے ہمارے پاس مریضوں کی ایک خاص تعداد تھی جو کافی تیزی سے صحت یاب ہوچکی ہے اور ان میں سے بیشتر ہفتوں دو یا تین ہفتوں تک آئی سی یو میں مقیم تھے۔ میں اپنا موبائیل نمبر نہیں دے سکتا کیونکہ وقت بہت کم ہے۔ ہم خطے میں مختلف اطلاعات کے مطابق اموات کی شرح 12 سے 16 فیصد کے درمیان توقع کرتے ہیں'۔