معروف ہندہ فلم اداکارہ اور آل انڈیا مہیلا کانگریس جنرل سکریٹری انچارج برائے جموں و کشمیر AIMC General Secretory In-charge J&k نغمہ اروند مورارجی نے جموں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے حدبندی، بڑھتی بے روزگاری و دیگر علاقائی اور قومی مسائل Delimitation, Unemployment and other Regional and National Issues پر روشنی ڈالی۔
بی جے پی حکومت کو متعدد محاذوں پر ناکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مودی کی حالیہ تقریر کی بھی مذمت کی، جس میں مسائل کا الزام کانگریس پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی، تاکہ ان ناکامیوں کو مہنگائی، بے روزگاری جیسے حقیقی مسائل سے دور کیا جاسکے۔
حدبندی رپورٹ کے مسودے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تجویز میں جغرافیائی تسلسل اور آبادی کے لحاظ سے سنگین تضادات ہیں۔ حدبندی کمیشن کی افشا ہونے والی ابتدائی رپورٹ سے عام لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے اور کمیشن کو بجاطور پر ڈیوسٹیشن کمیشن Devastation Commission کہا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن بری طرح ناکام ہوا ہے، اب بی جے پی کے اپنے ممبران اس عمل کی مخالفت کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ پہلے صرف اپوزیشن پارٹیاں ہی آواز اٹھاتی تھیں لیکن اب خود بی جے پی کے اندر ہی اختلافات پیدا ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید یہ تھی کہ حدبندی، مواصلات اور رابطے کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے کے لیے ہوگی اور پرانے طریقوں کو بہتر بنایا جائے گا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان فیصلوں میں کوئی آئینی پیرامیٹرز استعمال نہیں کیے گئے۔ یہ محض بھارتیہ جنتا پارٹی کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے، مضبوط فرقہ وارانہ سوچ رکھتا ہے اور تقسیم کرنا چاہتا ہے۔