ہلدوانی: نینیتال ضلع ہیڈ کوارٹر ہلدوانی میں جمعرات 8 فروری کو ہوئے تشدد کے واقعے میں تھوڑی بہت نرمی ضرور آئی ہے، لیکن اس کا اثر بہت دور تک جا چکا ہے۔ ہلدوانی تشدد کے بعد اتراکھنڈ کے کُماؤں ڈویژن کا سیاحتی کاروبار کافی متاثر ہوا ہے۔ ہلدوانی تشدد کے بعد نینی تال اور آس پاس کے پہاڑی مقامات پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اس کے علاوہ کماؤں کی اقتصادی دارالحکومت ہلدوانی میں بھی اس تشدد کا کاروبار پر خاصا اثر ہوا ہے۔ ہلدوانی تشدد کے بعد لوگوں نے ہوٹل کی بکنگ منسوخ کر دی ہے۔ اس وقت جبکہ سیاحوں کی بڑی تعداد اتراکھنڈ کے دوسرے علاقوں میں آ رہی ہے، ہلدوانی تشدد کی وجہ سے نینی تال میں تقریباً 80 فیصد ہوٹل خالی پڑے ہیں۔ خوف کی وجہ سے سیاح نینی تال نہیں جا رہے ہیں۔
ہلدوانی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر پنکج جیسوال نے کہا کہ تشدد سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے جس کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔ جن لوگوں نے ہلدوانی تشدد سے پہلے ہوٹلوں کی بکنگ کی تھی انہوں نے اپنی بکنگ منسوخ کرا لی ہے۔ ہلدوانی اور آس پاس کے علاقوں میں لوگ آنے سے کتراتے ہیں۔