مغربی بنگال میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی رفتار مکمل طور پر سست پڑنے کے بعد لاک ڈاؤن اور کورونا گائیڈ لائن میں بھی نرمی برتنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد پرائیویٹ بس کی خدمات یکم جولائی سے سڑکوں پر دوڑنے لگی ہے، لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔
تقریباً ڈیڑھ مہینے کے بعد پرائیویٹ بسوں کی خدمات دوبارہ بحال ہوئی ہے۔ اس کو لے کر بس مالکان اور ملازمین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
بس مالکان کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل کئے بغیر بسوں کو سڑکوں پر اتارنے کا مطلب بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے سامنے کئی مسائل ہے۔ ان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2020 میں پرائیویٹ بس خدمات معطل کی گئی تھی، لیکن حالات میں بہتری کے بعد پرائیویٹ بسوں کی خدمات دوبارہ کی گئی اور اس کے بعد پھر معطل کر دی گئی۔ اس درمیان پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہے۔ کاروبار کرنا اب مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بس کے کرائے میں اضافہ کئے بغیر دوبارہ خدمات بحال کرنا ناممکن ہے، کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے درمیان 50 فیصد مسافروں کے ساتھ بس چلانا مشکل ہے۔ اس صورتحال میں ایک پیسے کا فائدہ نہیں ہوگا ملازمین کو تنخواہ نہیں دی جا سکتی ہے۔
بس ملازمین کا کہنا ہے کہ بس خدمات کی دوبارہ بحالی اہم ہے۔ اس کے بعد حکومت پر کرائے میں اضافہ کے لئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو مہینے سے کس طرح سے گھر چل رہا ہے ہم سے بہتر کوئی جان بھی نہیں سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ملازم اس پیشے کو چھوڑ کر سبزی بچنے لگے ہیں۔ چند ملازم رکشہ چلاتے ہیں اور دیگر چپل کے کارخانے میں کام کر رہے ہیں۔ ان چند مہینوں کے دوران ہمارے لئے گھر چلانا مشکل ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں: جوٹ مل مزدوروں پر لاک ڈاؤن اور مالکان کی من مانی کی دوہری مار
واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کی دوسری لہر پر قابو پانے کے لئے گزشتہ 15 مئی کو نجی بس کی خدمات اگلے ایڈوائزر ی تک کے لئے معطل کر دی تھی، جو یکم جولائی تک جاری رہے گی۔