ملک کا سرفہرست یعنی نمبر شمار میں پہلے نمبر پر آنے والا پارلیمانی حلقہ سہارنپور سے عام انتخابات کے لیے 11 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ بی جے پی سے راگھولکھن پال شرما، کانگریس سے عمران مسعود، بی ایس پی۔ ایس پی اتحاد سے حاجی فضل الرحمن، عام آدمی پارٹی سے یوگیش دہیا، شیوپال یادو کی پارٹی' پرگتی شیل پارٹی سے اویس ملک سمیت کل 11 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔
اسمبلی کی پانچ سیٹوں پر مشتمل سہارنپور پارلیمانی سیٹ کے لیے کل 17 لاکھ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ جبکہ 2 اسبملی حلقہ کیرانا پارلیمانی سیٹ میں شامل ہے۔ عام انتخابات کے تعلق سے سہارنپور کے عوام کا کہنا ہے کہ وہ اس مرتبہ ایسی حکومت چاہتے ہیں جو انتخابات کے دوران کیے گئے تمام وعدے کو پورا کرے اور ان پر ثابت قدمی ہوکر چلے۔ ویسے تو سہارنپور ہندو مسلم اتحاد کے لیے مشہور ہے، لیکن سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے امیدوار کا انتخاب ذات برادری پر کرتی ہے۔
سہارنپور پارلیمانی سیٹ کے لیے پانچ اسمبلی سیٹیں ہیں، ان میں سے کسی سیٹ پر گجروں کی تعداد زیادہ ہے تو کسی پر ٹھاکروں کی اکثریت ہے، جبکہ دیہات کے سیٹوں پر دلتوں کی اکثریت ہے۔ پورے پارلیمانی سیٹ کے لیے ٹھاکر سمیت سینی معاشرے کے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ جبکہ اعداد و شمار کے مطابق سہارنپور پارلیمانی سیٹ میں مسلم ووٹرز کی حصہ داری 41 فیصد ہے۔
سنہ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی امیدوار راگھو لکھن شرما نے کانگریس امیدوار عمران مسعود کو شکست دے کر مذکورہ سیٹ پر قبضہ کیا تھا، جبکہ بہوج سماج پارٹی کے جگدیش رانا تیسرے اور سماج وادی پارٹی کے امیدوار شاذان مسعد چھوتھے نمبر پر تھے۔
بی جے پی کے امیدوار راگھو لکھن پال شرما مدھیہ پردیش کے وزیراعلی کمل ناتھ کے بیوی کے بھتیجے ہیں۔
لیکن حالات بدل چکے ہیں اور ریاست کی سیاست میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔ جہان بی ایس پی۔ ایس پی اتحاد عمل میں آیا ہے، وہیں سنہ 2014 کے مقابلےعوام بی جے پی کے تئیں پرجوش نظر نہیں آرہے ہیں۔