معروف تاریخ داں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معروف استاذ پروفیسر عرفان حبیب نے سنیما ہال "تصویر محل" کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ شہر کے ایک معروف سرمایادار طفیل احمد نے سنہ 1944 میں تصویر محل کی تعمیر کرائی تھی۔
آزادی ہند سے قبل سنیما ہال کی تعمیر پر چند قدامت پسندوں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا لیکن آزادی ہند کے بعد جب سینما کا سنہرا دور شروع ہوا تو اس سینما گھر میں ملک کی مقبول فلمیں دکھائی گئیں۔
ان فلموں میں سنہ 1961 کی 'دو بدن' اور 'چودھویں کا چاند' ، سنہ 1966 کی ' گائیڈ' اور 'گھو نگھٹ' جبکہ سنہ 1973 کی دیوار جیسی فلمیں کافی مقبول ہوئیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ تصویر محل کا نقشہ لندن کے ایک انجینئر نے بنایا تھا، اس سینما ہال کی یہ خوبی ہے کہ مرکزی ہال کے کسی بھی کونے سے بیٹھ کر اس کی طرف دیکھا جائے تو تصویر سامنے ہی نظر آتی تھی۔
تصویر محل کے موجودہ مالک شاہنواز ترین نے کہا کہ مذکورہ جگہ پر کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کا منصوبہ ہے، عمارت کے خستہ حالی کے سبب احتیاط کے طور پر کچھ حصہ گرایا جا رہا ہے، پورے حصے کو گرانے کے لئے ضابطہ کے مطابق منظوری کی کاروائی چل رہی ہے۔