لاک ڈاؤن کے دوران ممبئی سمیت مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں مستعدی سے غریب مزدوروں کی مدد کرنے والے سماجی کارکن ونیے دوبے سے ای ٹی وی بھارت کی خاص بات چیت۔ اس دوران دوبے نے کہا کہ، 'ممبئی میں اترپردیش اور بہار سے جانے والے مزدوروں کے مسائل کو پرزور طریقے سے بلند کرتا ہوں۔'
انہوں نے کہا کہ، 'لاک ڈاؤن کے دوران مزدوروں کو آنے والی پریشانیوں کو دور کرنے میں ہر ممکن کوشش کیا۔ ایک مہم چلائی جس کے بعد سرکار بیدار ہوئی اور حکومت نے مزدوروں ان کے گھروں تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔'
انہوں نے کہا کہ، 'باندرہ ریلوے اسٹیشن پر لگنے والی بھیڑ کا بھی ذمہ دار انہیں ٹھہرا کر گرفتار کیا گیا تھا۔'
انہوں نے کہا کہ، 'ممبئی سے خصوصی طور پر ڈاکٹر کفیل کے کیس کے سلسلے میں اتر پردیش میں آیا ہوں۔ الہ آباد میں کیس کی سماعت کی لیکن کورٹ میں کورونا مریض نکلنے کی وجہ سے سماعت ملتوی کردی گئی۔'
انہوں نے کہا کہ، 'ڈاکٹر کفیل پر حکومت بے جا طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جس ڈاکٹر نے کئی ماؤں کی گود کو سونا ہونے سے بچایا اس ڈاکٹر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے حکومت ڈال رہی ہے۔'
انہوں نے کہا کہ، 'حکومت غریب و مزدور کے خلاف کام کر رہی ہے۔'
ڈاکٹر کفیل کے سلسلے میں حکومتی جواب دیتی آرہی ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کے بگڑنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ڈاکٹر کفیل کو جیل میں رکھا گیا ہے۔ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ، 'اگر ایک ایسے ڈاکٹر سے اگر اترپردیش کالا اینڈ آرڈر خراب ہوتا ہے تو یہ ریاستی حکومت کے لیے شرم کی بات ہے۔ حکومت اور انتظامیہ اتنی کمزور ہے کہ ایک ڈاکٹر کی وجہ سے لاء اینڈ آرڈر بگڑ جائے؟'
انہوں نے کہا کہ، 'واضح طور پر اتر پردیش پولیس کی توہین ہے۔'