ہاتھرس مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی اور انتظامیہ کی جانب سے قصورواروں کا دفاع کرنے کے خلاف لوگوں کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ رامپور میں ہاتھرس معاملے میں انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے بھوک ہڑتال کا اہتمام کرکے قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور اس معاملے کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔
اس موقع پر لیگ کے کارکنان نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعروں کے پلے کارڈز ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کے ضلعی صدر فاروق میاں نے کہا کہ 'ریاست میں اس قسم کی واردات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن یوگی حکومت قصورواروں کو بچاتے ہوئے معاملے کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ کنبہ کو سی بی آئی اور ایس آئی ٹی جانچ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے اس لیے اس معاملے کی عدالتی جانچ ہونی چاہیے اوریہ جانچ کسی غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاست میں ہی ہونی چاہیے۔
فاروق میاں نے مزید کہا کہ اترپردیش میں اپوزیشن کی آواز کو کس طرح دبایا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دفعہ 144 کے نام پر جمہوری حق احتجاجی مظاہرہ بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی یہ بھوک ہڑتال تین روز سے اس کے مقامی دفتر پر جاری ہے لیکن انتظامیہ کے افسران وعدہ کرکے بھی یہاں پہنچ کر ہمارے مطالبات کا میمورنڈم لینے کی زحمت گوارا نہیں کر رہے ہیں۔