دارالعلوم دیوبند Darul Uloom Deoband میں جاری دو روزہ مجلس شوریٰ Majlis e Shura کا اجلاس ملک وملت کی تعمیر وترقی اور انسانیت کی فلاح وخیر کی دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مجلس شوریٰ نے ادارہ کی رفتار ترقی اور کارکردگی کا شعبہ وار جائزہ لیا اور مستقبل کے لیے مثبت اور تعمیری فیصلے لیے ہیں۔
کووڈ 19 کے بحران کے سبب گذشتہ دوسال سے جو جدید داخلے موقوف تھے، حالات سازگار ہونے کے سبب تعلیمی سال میں دار الاقامہ کی گنجائش کے مطابق نئے داخلے لینے کا فیصلہ لیا گیا۔ مجلس شوریٰ نے گریڈ کمیٹی کی تجاویز کومنظوری دیتے ہوئے کارکنان کی تنخواہوں میں معقول اضافے کا فیصلہ کیا۔
مجلس شوریٰ نے آخری نشست میں نہایت اہم فیصلہ کرتے ہوئے امیر الہند، سابق نائب مہتمم اور جمعیت علما ہند کے سابق صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کے صاحبزادے و ملک کے ممتاز عالم دین مولانا مفتی سید سلمان منصورپوری کا تقرر بحیثیت استاد دارالعلوم دیوبند میں کیا ہے۔ شوریٰ کے اس فیصلے کی علمی حلقوں میں زبردست پذیرائی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دارالعلوم دیوبند اور وقف کے اختلافات ختم کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل
واضح رہے کہ حضرت مولانا قاری سید عثمان منصور پوری کا گزشتہ سال مئی میں کورونا کے دوران انتقال ہو گیا تھا، اسی وقت سے مفتی سید سلمان منصور پوری اور مفتی سید عفان منصور پوری میں سے کسی ایک کے دارالعلوم دیوبند میں لانے کی خبریں چل رہی تھی، جس پر آج دارالعلوم کی مجلس شوریٰ نے آخری مہر لگاتے ہوئے مفتی سید سلمان منصور پوری کا انتخاب کیا ہے۔ شوریٰ کے اس فیصلے کی رئیس الجامعہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تصدیق کی ہے۔ مفتی سلمان منصورپوری مدرسہ شاہی مرادآباد میں گزشتہ طویل عرصے سے اپنی علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔