کووڈ 19 کی دوسری لہر سے ہر طرف خوف کا ماحول ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا دیگر پلیٹ فارمز پر آ رہی موت کی خبروں سے عوام الناس کے اندر بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
ایسی صورتحال میں لوگ کیسے اس سے محفوظ رہ کر کووڈ 19 جیسی وباء کا سامنا کریں۔ اس سلسلے میں ای ٹی وی بھارت کے نمائندہ نے خاص گفتگو کی رفیع احمد قدوائی میموریل ضلع ہسپتال کے کلینکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر ونود ورما سے۔
ڈاکٹر ونود ورما کا ماننا ہے کہ جس انداز میں کووڈ 19 سے جڑی اموات کی خبریں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان سے اس قسم کی صورتحال کا ہونا لازمی ہے۔
ان صورتحال میں لوگ ان خبروں کے مثبت پہلو کے بجائے منفی پہلوؤں پر زیادہ غور کرتے ہیں۔ اس وقت ہم جس کردار میں ہیں، اسی کردار میں رہیں ناکہ ہم کسی قسم کے ماہر بن کر لوگوں کو مشورہ دیں۔ اتنی ہی اطلاعات حاصل کریں۔ جتنی ہمارے لئے ضروری ہے۔
ہمیں اموات کے اعدادوشمار پر فکر کرنے کے بجائے اپنا کام کرنا چاہیے۔ اس وقت ہمیں چاہیے کہ ہم اپنوں سے گفتگو کریں۔ اپنے پرانے مسائل کو لیکر جن پر وہ پہلے گفتگو کیا کرتے تھے، ناکہ کووڈ 19 سے جڑی خبروں پر۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کیسے دوری بنائے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ان ذرائع سے دوری بنانا آسان نہیں ہے، لیکن ان کا استعمال مثبت کاموں کے لئے کریں۔ ان پر آنے والی منفی اطلاعات کو نظر انداز کریں اور مثبت اطلاعات کو حاصل کریں۔ اپنوں سے باتیں کریں، ویڈیو کال کریں۔
ڈاکٹر ونود ورما کے مطابق مختلف میڈیا کے پلیٹ فارم پر کووڈ 19 سے جڑی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے نگیٹوٹی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ اس وقت وہ ان جیسی خبروں کو دیکھنے کے بجائے دوسرے ممالک کی دیگر خبریں دیکھیں، تجارت، جنگلی جانوروں والے چینل دیکھیں اور زیادہ سے زیادہ کامیڈی پروگرام دیکھیں۔ اچھی اور متوازن غزلیں اور لیکویڈ اشیاء کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔