رامپور: ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں بجلی کے پول پر چڑھ کام کر رہے بجلی محکمہ کے کانٹریکچول ملازم کی کرنٹ کی زد میں آنے سے دردناک موت ہوگئی۔ ایک ماہ کے اندر بجلی محکمہ کے دوسرے ملازم کی موت ہوئی ہے۔ مہلوک کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ بجلی محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا ہے۔ Electricity department employee dies in electric shock in Rampur
اطلاعات کے مطابق اتوار کو صبح 9:30 بجے ڈونگر پور بجلی گھر میں لائن مین کے عہدے پر تعینات کانٹریکچول ملازم عارف علی پولیس لائن کے سامنے پول پر سیڑھی لگاکر 11 ہزار کے وی اے کے سامنے پول پر مرمت کا کام کر رہا تھا۔ جب کہ مہلوک کے دیگر ساتھی نیچے کھڑے تھے۔ مرمت کے دوران اچانک کرنٹ آنے سے عارف علی نیچے زمین پر آ گرا۔ فوراً ہی جونیئر انجینئر راہل رنجن اور دیگر ملازمین اسے ہسپتال لے گئے۔ جہاں حالت نازک ہونے پر اسے مرادآباد ریفر کر دیا گیا۔ One person dies of electric shock In Rampur
مرادآباد کے ایک نجی ہسپتال میں عارف علی کی موت ہو گئی۔ بعد میں بجلی محکمہ کے لوگ لاش کو واپس لے آئے۔ اطلاع ملتے ہی مہلوک کے اہل خانہ نے ضلع ہسپتال پہنچ کر لاش کو بیچ میں رکھ احتجاج کیا۔ مہلوک کے چھوٹے بھائی اشرف کا کہنا تھا کہ 'حادثہ کے دو گھنٹے بعد انہیں اطلاع دی گئی۔' ایس ڈی او ونے کمار نے مہلوک کے اہل خانہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ 'قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش گھر والوں کے سپرد کر دی گئی۔
واضح رہے کہ یہ ایک ماہ کے اندر دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ ماہ کی 11 مئی کو کانٹریکچول بجلی ملازم گیندا لال کی موت بھی بجلی کے پول پر کام کرتے وقت ہوئی تھی تب بھی بجلی محکمہ کی جانب سے اچانک سپلائی کھول دی گئی تھی جس کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے اس کی فوری موت ہو گئی تھی۔ آپ کو بتا دیں کہ موجودہ جے ای راہل رنجن سے متعلق پہلے بھی کئی لاپرواہی کی کئی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ مہلوک کے اہل خانہ کو کب اور کس طرح انصاف مل سکے گا۔