خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر International Day for the Elimination of Violence Against Women علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) AMU کی انٹرنل شکایت کمیٹی کی جانب سے 'خواتین کا بڑھتا ہوا استحصال اور سد باب' کے موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔
مباحثے میں آئی سی سی کی سربراہ پروفیسر سیما حکیم، کمیٹی کے دیگر اراکین، پروفیسر سنگیتا سنگھل، ڈاکٹر فضیلہ شاہنواز، ڈاکٹر صبیحہ افضل، عدیلہ سلطانہ، ڈاکٹر نیلوفر عثمانی، ڈاکٹر محمد عزیز اور دیگر شعبہ جات کے ملازمین اور محققین موجود رہے۔
جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے زچگی اور امراض نسواں شعبہ کی سینئر پروفیسر اور آئی سی سی کے سربراہ پروفیسر سیما حکیم نے مقررین اور حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد اور اس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے استحصال کے خلاف سب کو آواز اٹھانی چاہیے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ کام اپنے خاندان سے شروع کرنا ہے۔ اگر ایک شخص دوسرے پانچ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کر دے تو یقینا ایک دن پورا معاشرہ بدل جائے گا۔ آئی سی سی کی ممبر پروفیسر سنگت سنگھ نے کہا کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی لڑکیوں اور لڑکوں کی یکساں پرورش کریں اور انہوں نے کہا کہ بچپن سے ہی لڑکی کو پرایا دھن کہہ کر لڑکوں سے کم تر نہ سمجھا جائے۔ بچپن کی یہ پرورش مستقبل میں صنفی عدم مساوات کا احساس پیدا کرتی ہے۔
شعبہ ہندی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر عثمانی نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کا مقصد بتاتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد کو روکنا ہوگا، تب ہی خاندان سماج اور ملک کی ترقی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو اس معاشرے سے فیصلے لینے، اپنے سماجی اور قانونی حقوق کو خود تسلیم کرنے کی آزادی اختیار کرنی ہوگی، وہ کمزور نہیں، بے بس نہیں، وہ صرف امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ انہیں صرف اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہے اور برابری کا درجہ حاصل کرنا ہے۔ ان کی تعلیم، صحت اور حفاظت کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: مدرس ڈے کا تقدس اور خواتین کا استحصال
آئی سی سی کمیونٹی میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے ممبر اور سی ایم او ڈاکٹر صبوحی نے بتایا کہ بہت سی جگہوں پر صرف خواتین ہی خواتین پر مظالم کا ارتکاب کرتی ہیں۔ کووڈ 19 کی وجہ سے خواتین کے خلاف گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
آئی سی سی اور جے این ایم سی ایچ کی رکن عدلیہ سلطانہ نے کہا کہ خواتین کے ساتھ نہ صرف جسمانی تشدد کیا جاتا ہے بلکہ انہیں ذہنی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ خود کو کمتر سمجھ کر وہ اپنے اوپر ہونے والے استحصال کو قبول کرتی چلی جاتی ہیں۔
شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر مجتبٰی احمد نے کہا کہ خواتین کو اپنے استحصال کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ وہ ہمت، خودانحصاری سے ہی برابری کا حق حاصل کر سکتی ہیں۔