امریکہ میں مقیم شوہر کے ذریعہ تین طلاق دیئے جانے پر حیدرآبادی خاتون نے مرکزی وزارت خارجہ میں اپنی شایت کا اظہار کیا ہے۔
ایک 23 سالہ خاتون نے مرکزی وزیر برائے امور خارجہ ایس جئے شنکر سے اپیل کی کہ وہ اپنے 40 سالہ شوہر سے طلاق حاصل کرنے میں مدد کریں، جنھوں نے دو ماہ قبل ہی فون پر تین طلاق کا اعلان کیا تھا۔
- نوٹس جاری کی جائے:
پرانے شہر کے چندرائن گھٹہ کی رہائشی صبا فاطمہ نے ایس جئے شنکر کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ وزارت خارجہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بھارتی سفارتخانے کو اپنے شوہر عبد ولی احمد کو نوٹس جاری کرے۔

واضح رہے کہ صبأ فاطمہ نامی خاتون نے مرکزی وزارت خارجہ سے اپنے شوہر کے خلاف تین طلاق کی شکایت درج کرائی، جو امریکہ میں مقیم ہے۔
- صومالیائی نژاد امریکی سے شادی:
چندرائن گٹہ کی ساکن صباء فاطمہ کی شادی صومالیائی نژاد امریکی شہری عبداللہ احمد سے 2015 میں ہوئی تھی۔
شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ ٹولی چوکی و ملک پیٹ میں کرایہ کے مکان میں مقیم تھی۔ بعد ازاں وہ امریکہ چلا گیا۔
فاطمہ نے اپنے خط میں کہا کہ 'میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور انصاف ملنے میں میری مدد کریں۔ میں طلاق نامہ کے مستند دستاویزات کے بغیر دوبارہ کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی'۔

ان کی شادی احمد سے 25 جنوری 2015 کو ہوئی، جب وہ حیدرآباد میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا تھا، جبکہ اس کا کنبہ ابوظہبی میں رہتا ہے۔
- بار بار رابطے کی کوششیں ناکام:
خاتون نے بتایا ہے کہ 'نکاح قاضی نے اسلامی قوانین کے مطابق انجام دیا اور تلنگانہ وقف بورڈ میں اندراج کیا۔ شادی کے استقبال کے ایک ہفتہ بعد ، احمد اپنے والدین کی جگہ کے لئے روانہ ہوا۔ اس کے بعد وہ ہر چھ ماہ بعد حیدرآباد آتا تھا اور ہم حیدرآباد کے ٹولی چوکی اور ملک پیٹ علاقوں میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے'۔
پچھلے دو ماہ میں بار بار ان سے رابطہ کرنے کی کوششوں کے بعد فاطمہ نے بالآخر ان کی مدد کے لئے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا۔
مزید پڑھیں: ''یکم اگست کو 'مسلم خواتین یوم حقوق' کے نام سے منانے کا فیصلہ''
واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے گذشتہ برس مسلم خواتین (حقوق تحفظ برائے شادی) بل 2019 کو منظور کیا تھا، جس کے مطابق بیک وقت تین طلاق دینا قانوناً جرم قرار دیا گیا۔ اسے اگست میں صدارتی منظوری مل گئی۔