تلنگانہ ہائیکورٹ نے گنیش چتورتھی کے موقع پر گنیش مورتیوں کے حسین ساگر میں وسرجن پر امتناع عائد کیا ہے جبکہ پلاسٹر آف پیرس ( پی یو پی ) کی مورتیوں کو تیار کرنے کی اجازت برقرار رکھی ہے۔ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے رہنمایانہ خطوط کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے بعد چیف جسٹس اوجل بھویاں اور جسٹس اے نندا پر مشتمل بنچ نے حکومت کو احکامات جاری کئے ہیں کہ حسین ساگر (ٹینک بنڈ ) میں گنیش مورتیوں کا وسرجن نہ کیا جائے بلکہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے نشاندہی کردہ تالابوں میں وسرجن کیا جائے۔ Telangana High Court on Idol Immersion
عدالت نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت کے دُرگا مورتیوں کے وسرجن کے پس منظر میں جاری کئے گئے رہنمایانہ خطوط پرتلنگانہ حکومت غور کرے۔عدالت نے حکومت کی جانب سے گنیش مورتیوں کے قد کو کم کرنے کے استدلال کو بھی غیر درست قرار دیا۔عدالت نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت کو پی یو پی مورتیوں سے متعلق اس سال مارچ تک قطعی فیصلہ لینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی لیکن اب تک اس معاملہ میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر پی یو پی کی تیار شدہ مورتیوں پر پابندی ممکن نہیں۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی کو یہ واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ گنیش مورتیوں کے وسرجن کیلئے مختلف تالابوں ( بے بی پانڈس ) کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں وسرجن کی سہولت فراہم کرے اور بعد ازاں مورتیوں کو باہر نکال دے۔