ETV Bharat / state

سرینگر سے دہلی تک پیدل سفر کرنے والا نوجوان - کشمیر نوجوان لڑکیوں میں منشیات کا رجحان

کچی شاہراہوں پر دھوپ کی تپش کو برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کا سفر دشوار کن تھا لیکن پختہ یقین، دل میں جنون اور بلند حوصلوں نے اس مشکل ترین سفر کو بھی آسان کر دیا۔

سرینگر سے دہلی تک پیدل سفر کرنے والا نوجوان
سرینگر سے دہلی تک پیدل سفر کرنے والا نوجوان
author img

By

Published : Apr 10, 2021, 8:20 PM IST

Updated : Apr 10, 2021, 10:43 PM IST

کشمیر کے سرینگر سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے محمد عزیر نے دہلی پہنچ کر اپنا سفر مکمل کیا۔ عزیر ایک میراتھن رنر ہیں اور کشمیر کے نوجوانوں کے منشیات کی جانب متوجہ ہونے سے سخت نالاں تھے۔ اس لیے انہوں نے عزم کیا کہ وہ سرینگر سے دہلی تک اس پیغام کو اپنی انوکھی پہل کے ذریعہ نوجوانوں تک پہنچائیں گے۔

سرینگر سے دہلی تک پیدل سفر کرنے والا نوجوان

عزیر نے اپنے سفر کا آغاز 2 تاریخ کو سرینگر سے کیا تھا اور 8 تاریخ کی رات میں 900 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے دہلی پہنچے تھے۔ تقریبا 144 گھنٹوں تک پیدل چل کر دہلی تک کا سفر طے کرنے والے محمد عزیر اپنے ساتھ نوجونوں کے لیے ایک پیغام لے کر آئے ہیں۔

محمد عزیر بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے عدالت میں کچھ نوجوان لڑکیوں کو منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہتکڑی پہنے دیکھا تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے عزم کیا کہ وہ اپنے ہنر کے ذریعہ منشیات کے خلاف ایک مہم چلائیں گے۔ اس سمت میں سرینگر سے دہلی تک کا سفر پیدل طے کیا اور مستقبل میں کشمیر سے کنیا کماری تک پیدل سفر کرنے کا بھی ارادہ ہے۔

عزیر نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے کو بتایا کہ جموں کشمیر پولیس نے ان کی حوصلہ افزائی کی لیکن حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ البتہ اس سفر کے دوران ان کا فون چھیننے کی کوشش ضرور کی گئی جس کی انہوں نے رپورٹ بھی درج کرائی۔

عزیر بتاتے ہیں کہ جب وہ تھک کر چور ہو جاتے تھے اور اپنے پیروں میں پڑے چھالوں پر نظر ڈالتے تو انہیں ماں یاد آتی تھی۔ وہ فورا ہی زخموں پر مرہم لگاتے اور منزل مقصود کی طرف نکل پڑھتے۔

عزیر نے اس سفر کے دوران روزانہ 150 کلومیٹر کی مسافت طے کی۔ حالانکہ انہوں نے اس سفر کو 3 دن میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ پورا نہیں ہو سکا لیکن انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑا۔

کشمیر کے سرینگر سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے محمد عزیر نے دہلی پہنچ کر اپنا سفر مکمل کیا۔ عزیر ایک میراتھن رنر ہیں اور کشمیر کے نوجوانوں کے منشیات کی جانب متوجہ ہونے سے سخت نالاں تھے۔ اس لیے انہوں نے عزم کیا کہ وہ سرینگر سے دہلی تک اس پیغام کو اپنی انوکھی پہل کے ذریعہ نوجوانوں تک پہنچائیں گے۔

سرینگر سے دہلی تک پیدل سفر کرنے والا نوجوان

عزیر نے اپنے سفر کا آغاز 2 تاریخ کو سرینگر سے کیا تھا اور 8 تاریخ کی رات میں 900 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے دہلی پہنچے تھے۔ تقریبا 144 گھنٹوں تک پیدل چل کر دہلی تک کا سفر طے کرنے والے محمد عزیر اپنے ساتھ نوجونوں کے لیے ایک پیغام لے کر آئے ہیں۔

محمد عزیر بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے عدالت میں کچھ نوجوان لڑکیوں کو منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہتکڑی پہنے دیکھا تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے عزم کیا کہ وہ اپنے ہنر کے ذریعہ منشیات کے خلاف ایک مہم چلائیں گے۔ اس سمت میں سرینگر سے دہلی تک کا سفر پیدل طے کیا اور مستقبل میں کشمیر سے کنیا کماری تک پیدل سفر کرنے کا بھی ارادہ ہے۔

عزیر نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے کو بتایا کہ جموں کشمیر پولیس نے ان کی حوصلہ افزائی کی لیکن حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ البتہ اس سفر کے دوران ان کا فون چھیننے کی کوشش ضرور کی گئی جس کی انہوں نے رپورٹ بھی درج کرائی۔

عزیر بتاتے ہیں کہ جب وہ تھک کر چور ہو جاتے تھے اور اپنے پیروں میں پڑے چھالوں پر نظر ڈالتے تو انہیں ماں یاد آتی تھی۔ وہ فورا ہی زخموں پر مرہم لگاتے اور منزل مقصود کی طرف نکل پڑھتے۔

عزیر نے اس سفر کے دوران روزانہ 150 کلومیٹر کی مسافت طے کی۔ حالانکہ انہوں نے اس سفر کو 3 دن میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ پورا نہیں ہو سکا لیکن انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑا۔

Last Updated : Apr 10, 2021, 10:43 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.